(مانیٹرنگ ڈیسک) جہلم کے رہائشی ایک شخص انجینئر محمد علی مرزا کیخلاف بشار ت علی چودھری نے FIA،PEMRAاور PTA، سیکرٹری اوقاف پناب ، ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری پنجاب کو اس فتنے کے سدباب کی مقدمہ کاروائی کی درخواست کی اپیل دائر کی ہے ۔ تاکہ اس شخص مذموم مقاصد اور شر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون اقت استعمال کریں ۔ درخواست گزار نے درخواست میں لکھا کہ
’’ گزارش ہے کہ جہلم کا رہائشی انجینئرمحمد علی مرزا نامی ایک شخص جو سوشل میڈیا (یوٹیوب اور فیس بک ) پر اسلام کے عقائد و معمولات کی گمراہ کن تاویلات و تعبیرات کرکے ایک فتنہ کی شکل اختیار کر رہا ہے ۔ جس سے پاکستان کے مسلمانو مخصوص تمام مکاتب فکر کے مذہبی اور دینی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہ ایک ساز ش ہے جو ہمارے ہاں پلانٹ کی گئی ہے تاکہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کے مسائل پیدا کر کے غیر ملکی ، غیر مذہبی پلانٹ شدہ ایجنڈہ مسلط کیا جا سکے ۔ جو نوجوان نسل کے اسلام عقیدے میں شک و شہبہ پیدا کرنے کی ایک منظم، اور ناپاک جسارت بھی ہے ۔ یہ نظریہ پاکستان کی احساس کے پہلوعقائد و عبادات بابت عقیدہ ختم نبوتؐ کو دانستہ طور پر غیر ملکی ، غیر مذہبی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں طے شدہ متفقہ آئین پاکستان 1973ءکے قادنیت ایکٹ کے خلاف رائے زنی کر کے ’’قادیانی فرقہ کو دعوت صلاح‘‘میں انکو اسلام سے اہل سنت سے ٹوٹا ہوا ایک فرقہ مانتا ہو، اگر قادیانی ہمیں کافر کہنا چھوڑ دیں تو ہم ان کو کافر نہیں کہیں گے) اور نعوذ باللہ من ذالک ، قادیانیون کیلئے وہ مذہب کا لفظ تو استعمال ہی نہیں ہو سکتا ۔ حالانکہ قادیانی حقیقی ، آئینی و قانون طور پر غیر مسلم و کافر ہیں ، مزید یہ کہ غیر مسلمانوں کو مخصوص قادیانی ، احمدی ، لاہور فرقہ کا خود کو سملمان ظہار کرنے یاخود مسلمان ظاہر کر کے اپنے عقیدہ کی تبلیغ و تشہیر کر رکے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298Cکے تحت قابل دست اندازی جرم ہے ۔ مندرجہ ذیل گمراہ کن عقائد نظریات جو اس کے اکائونٹ پہ کپ کی صورت میں موجود ہیں اس کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت اس کے تمام اکائونٹ بند کیے جائیں اور اس کے تمام یوٹیوب ، فیس بک اکائونٹس ، گوگل ، پلے سٹور اور دیگر سوشل میڈیا اکائونٹس منجمند کیے جائیں اور سختی سے پابندی لگائی جائے اس کے کلپ کوئی اور شخص یا کمپنی نشر نہ کر سکے ۔




















































