بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

کورونا کے مریضوں کیلئے ’متنازع‘ سرٹیفکیٹ  جاری کرنے پر ڈبلیو ایچ او شدید برہم ہو گئے ، بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 27  اپریل‬‮  2020 |

سنتیا گو (این این آئی)جنوبی امریکا کے ملک چلی کی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے لوگوں کو ’متنازع‘ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے فیصلے پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ایسا قدم جھوٹے عقائد کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہونے اور ملک میں بے روزگاری بڑھنے کے

خدشے کے بعد حال ہی میں چلی کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ کام پر جانے والے افراد کو کورونا سرٹیفکیٹ جاری کرے گی تاکہ ایسے افراد کو کام پر جانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔چلی کی نائب وزیر صحت پالا ڈازا کا کہنا تھا کہ حکومت کام پر جانے والے افراد کو خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی، جس میں مذکورہ شخص کے کورونا وائرس کے اسٹیٹس کا ذکر ہوگا۔پالا ڈازا کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ میں اس بات کا ذکر نہیں ہوگا کہ مذکورہ شخص کا مدافعتی نظام کتنا مضبوط ہے اور نہ ہی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے کو کورونا سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔نائب وزیر صحت کے مطابق سرٹیفکیٹ صرف ان افراد کو ہی جاری کیا جائے گا جو کورونا میں مبتلا ہو چکے ہوں گے اور اب وہ صحت مند ہونے کے بعد کام پر جانے کا سوچ رہے ہیں۔پالا ڈازا نے دعویٰ کیا کہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ جو بھی شخص کسی بیماری میں ایک بار مبتلا ہونے کے بعد صحت مند ہوجاتا ہے تو دوبارہ اس کے اسی مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات نہیں ہوتے تاہم چلی کی حکومت کے اس فیصلے پر عالمی ادارہ صحت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ کسی بھی شخص کو کورونا دوبارہ نہیں لگ سکتا۔عالمی ادارہ صحت کے عہدیداروں نے چلی کی حکومت کی جانب سے لوگوں کو ’متنازع‘ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اعلان کے بعد ایک بریفنگ میں جنوبی امریکا کے ملک پر تنقید کی۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق چلی کی حکومت کی جانب سے ایسا سرٹیفکیٹ جاری کیا جانا جھوٹے عقائد کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے چلی کی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سرٹیفکیٹ کو نام نہاد قرار دیا اور کہا کہ ایسے سرٹفیکیٹ جاری کرنے سے لوگ بے ضرر ہوجائیں گے اور وہ سماجی فاصلے جیسے احتیاط کو نظر انداز کرنے سمیت دیگر قسم کی لاپرواہیاں بھی کریں گے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…