منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دل، سینے ،معدے کی جلن کی دوائی کو ورونا کے مریضوں پر آزمانا شروع‎

datetime 27  اپریل‬‮  2020 |

دل، سینے ،معدے کی جلن کی دوائی کو ورونا کے مریضوں پر آزمانا شروع‎واشنگٹن(این این آئی)کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے مختلف دوائیوں اور طریقوں کو آزمایا جا رہا ہے اور اب امریکی ماہرین نے ایک اور نئی دوائی کو اس مرض کے مریضوں پر آزمانے کا کام شروع کردیا۔اس وقت تک کورونا وائرس کے مریضوں کے

علاج کے لیے جہاں ملیریا کے علاج میں کام آنے والی دوا کلوروکوئن کو آزمایا جا رہا ہے، وہیں اس بیماری کے مریضوں کے علاج کے لیے بلڈ پلازما جیسے طریقے کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں چند ممالک میں کچھ اور دوائیوں کو بھی کورونا کے مریضوں پر آزما کر یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کون سی دوائیاں وبا کو روک سکتی ہیں۔اسی غرض کے تحت اب امریکی شہر نیویارک کے سب سے بڑے ہسپتال نیٹ ورک کی جانب سے دل، سینے اور معدے کی جلن میں کام آنے والی دوائی کو بھی کورونا وائرس کے مریضوں پر آزمانا شروع کردیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اسپتال کے ماہرین نے اب تک اس دوائی کی آزمائش کے لیے 187 رضاکاروں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے اور ماہرین نے ان رضاکاروں پر نئی دوائی کی آزمائش شروع بھی کردی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیویارک شہر کے نارتھ ویل ہسپتال نیٹ ورک کے فائنسٹین انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ سینٹر میں رضاکاروں کو دل، سینے اور معدے کی جلن میں استعمال ہونے والی عام دوائی فیموٹی ڈائن کے ڈوز دینا شروع کردئیے۔‎ریسرچ سینٹر کے صدر ڈاکٹر کیون ٹریسی کا کہنا تھا کہ اگر مذکورہ دوائی کی آزمائش اچھے نتایج دیتی ہے تو یہ اب تک کورونا کے حوالے سے سب سے بہتر، سستا اور جلد ہونے والا علاج ہوگا۔ڈاکٹر کیون ٹریسی کے مطابق طب کی تاریخ میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں کہ دوسرے

امراض کے لیے بنائی گئی دوائیوں کے کسی اور بیماری پر اچھے اثرات ہوتے ہیں اور وہ مسئلے کو حل کرتی ہیں۔انہوں نے اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ دل، سینے اور معدے کی جلن کی دوائی کورونا کے مریضوں پر کام نہیں کرے گی، تاہم سائنس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔میڈیکل ریسرچ سینٹر کے صدر کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو علم نہیں کہ دوائی کی آزمائش کے نتائج کیا ہوں گے،

تاہم انہیں اس دوائی کی آزمائش کرکے مسئلے کو جاننے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ آزمائشی پروگرام کے لیے مزید رضاکاروں کی ضرورت ہے اور انہیں یقین ہے کہ تقریبا 1200 افراد اس آزمائشی پروگرام میں خود کو رجسٹرڈ کروائیں گے۔امریکی ماہرین کی جانب سے دل، سینے اور معدے کی جلن کی دوائی سے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے کے دوران مریضوں کو ملیریا سے بچاؤ کی دوا کلوروکوئن بھی ساتھ دی جا رہی ہے۔مریضوں کا بیک وقت کلوروکوئن اور فیموٹی ڈائن سے علاج کیا جا رہا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں مذکورہ دوائی کے نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…