جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس نے ایچ آئی وی کی دوا تیار کرنے والی سائنسدان کی جان لے لی

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)دنیا بھر میں اور خاص طور پر افریقہ میں مہلک وبا ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے میں متحرک کردار ادا کرنے والی جنوبی افریقن سائنسدان 64 سالہ گیتا رام جی بھی کورونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد چل بسیں۔میڈیار پورٹ کے مطابق گیتا رام جی نے افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے اسی مہلک مرض کی دوا تیار کرنے میں بھی مدد کی۔

گیتا رام جی نے خصوصی طور پر افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا، انہوں نے برصغیر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین کی سماجی زندگی بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔انہیں ایچ آئی وی پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی تیار کرنے والے نامور ماہرین میں شمار میں کیا جاتا تھا اور انہیں ان کی خدمات کے عوض امریکا سے لے کر برطانیہ کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں نے اعزازی ڈگریوں سے نواز رکھا تھا۔کورونا وائرس جیسی علامات میں مبتلا ہونے کے بعد نامور ماہر کی اچانک موت پر اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے ان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کی خدمات پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔یو این ایڈز کی جانب سے بتایا گیا کہ 64 سالہ گیتا رام جی 31 مارچ کو دوران علاج چل بسیں مگر انہیں ان کی خدمات کے عوض ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 64 سالہ گیتا رام جی نے حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے ایک طبی سیمینار میں شرکت کی تھی۔طبی سیمینار میں شرکت کے بعد گیتا رام جی کی طبعیت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا اور ان میں کورونا جیسی علامات بھی پائی گئی تھیں۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ ان کی موت کورونا کی وجہ سے ہی ہوئی، تاہم بتایا گیا کہ ان میں بھی وبا جیسی علامات پائی گئی تھیں۔ڈاکٹر گیتا رام جی موت کی موت پر انہیں ان کی ساتھی ڈاکٹرز نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والی خاتون ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔ان کی موت جنوبی افریقی شہر ڈربن کے ہسپتال میں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…