منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرونا وائرس نے ایچ آئی وی کی دوا تیار کرنے والی سائنسدان کی جان لے لی

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)دنیا بھر میں اور خاص طور پر افریقہ میں مہلک وبا ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے میں متحرک کردار ادا کرنے والی جنوبی افریقن سائنسدان 64 سالہ گیتا رام جی بھی کورونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد چل بسیں۔میڈیار پورٹ کے مطابق گیتا رام جی نے افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے اسی مہلک مرض کی دوا تیار کرنے میں بھی مدد کی۔

گیتا رام جی نے خصوصی طور پر افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا، انہوں نے برصغیر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین کی سماجی زندگی بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔انہیں ایچ آئی وی پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی تیار کرنے والے نامور ماہرین میں شمار میں کیا جاتا تھا اور انہیں ان کی خدمات کے عوض امریکا سے لے کر برطانیہ کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں نے اعزازی ڈگریوں سے نواز رکھا تھا۔کورونا وائرس جیسی علامات میں مبتلا ہونے کے بعد نامور ماہر کی اچانک موت پر اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے ان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کی خدمات پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔یو این ایڈز کی جانب سے بتایا گیا کہ 64 سالہ گیتا رام جی 31 مارچ کو دوران علاج چل بسیں مگر انہیں ان کی خدمات کے عوض ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 64 سالہ گیتا رام جی نے حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے ایک طبی سیمینار میں شرکت کی تھی۔طبی سیمینار میں شرکت کے بعد گیتا رام جی کی طبعیت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا اور ان میں کورونا جیسی علامات بھی پائی گئی تھیں۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ ان کی موت کورونا کی وجہ سے ہی ہوئی، تاہم بتایا گیا کہ ان میں بھی وبا جیسی علامات پائی گئی تھیں۔ڈاکٹر گیتا رام جی موت کی موت پر انہیں ان کی ساتھی ڈاکٹرز نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والی خاتون ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔ان کی موت جنوبی افریقی شہر ڈربن کے ہسپتال میں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…