اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس ! دنیا سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے آج سے 66ملین سال پہلے ایسا کیا ہوا تھا کہ زمین پر موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جس میں ڈائنو سار بھی شامل تھے ؟ اہم انکشاف کر دیا گیا

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے کالم ’’خاطر جمع رکھیں، دنیا ختم نہیں ہورہی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔ زمین سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ کوئی آوارہ گرد سیارہ زمین سے ٹکرا جائے اور سب کچھ فنا کر دے، ایسا آج سے 66ملین سال پہلے ہو چکا ہے جب خلا سے ایک شہابِ ثاقب گھومتا گھامتا آیا تھا اور زمین سے ٹکرا گیا تھا، اِس کے نتیجے میں زمین پر

موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جن میں ڈائنو سار بھی شامل تھے۔دوسرا امکان یہ ہے کہ زمین اِس قابل ہی نہ رہے کہ یہاں زندگی پنپ سکے، ماحولیاتی آلودگی اِس سطح پر پہنچ جائے کہ ہمارے شہر سمندر میں ڈوب جائیں، تین کروڑ آبادی کا شہر جکارتہ ڈوبنا شروع ہو چکا ہے، گلیشیر پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اگر یہی سلسلہ رہا تو زندگی اِس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتی ہے۔تیسرا امکان یہ ہے کہ عالمی جنگ چھڑ جائے جس کے نتیجے میں دنیا کے جنونی حکمران ایک دوسرے پر ایٹم بم برسا کر انسانیت کو ملیا میٹ کر دیں۔ چوتھا امکان یہ ہے کہ انسان کوئی ایسی تباہ کُن مشین ایجاد کرلے جو خود کار ذہانت کے تابع ہو اور پھر کسی وجہ سے اُس کی مصنوعی ذہانت کا کنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکل جائے جس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو روکا نہ جا سکے۔پانچواں طریقہ جس سے زندگی ہر صورت اِس زمین سے ختم ہو جائے گی یہ ہے کہ قیامت آ جائے۔ کورونا وائرس سے زندگی کا خاتمہ، بہرحال، اِن پانچوں طریقوں میں شامل نہیں ہے، سو خاطر جمع رکھیں، دنیا ابھی ختم نہیں ہو رہی، انگریزی میں جسے کہتے ہیں Surely, this is not end of the world۔چلیں تصویر کا مثبت رُخ دیکھتے ہیں۔ آج کی تاریخ تک امریکہ، اٹلی، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزر لینڈ، برطانیہ، ہالینڈ اور بلجیم میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 29,295ہے۔یہ دنیا میں ہونے والی کل اموات کا 77.4%ہے، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں، جہاں ایک ارب ستر کروڑ لوگ رہتے ہیں، اب تک کورونا سے صرف 62اموات ہوئی ہیں، اسی طرح افریقہ کے اعداد و شمار بھی ملتے جلتے ہیں۔ اِس سے پہلے کہ میں

اِن اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کروں، ایک فلم کا مکالمہ سنا دوں، رنبیر کپور کی فلم ’راکٹ سنگھ، سیلز مین آف دی ائیر‘ میری پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے، اس فلم کے ایک سین میں رنبیر کپور کمپیوٹر کی دکان سے ہارڈ ڈسک کی کوٹیشن لیتا ہے، دکاندار کوٹیشن دیتے ہوئے کہتا ہے ’سردار جی، یہ آج کا ریٹ ہے، یہاں دنیا روز ایسے ایسے بدلتی ہے، کسی بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے‘۔سو، آج جس تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اُس میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں مگر آج کے اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ یہ وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں الگ طریقے سے اثر دکھا رہا ہے۔ فی الحال یہ ایک اچھی خبر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…