جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

کورونا وائرس امریکی جنگی بحری بیڑے پر بھی پہنچ گیا 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں داؤپر

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکہ کے جنگی بحری بیڑے روزویلٹ پر کرونا وائرس کے شکار اہلکاروں کی موجودگی سے امریکی بحری فوج کے 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں دا پر لگ گئیںجہاز کے کپتان نے فوری مدد کے لیے پینٹاگون کو خط لکھ دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے اور کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے.ایک امریکی جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں.انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے کپتان نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سیلرز کی بیڑے پر موجودگی بہت بڑا خطرہ ہے.امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ بحری بیڑے سے سیلرز کو کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیںانہوں نے کہا کہ طبی امداد اور دیگر ضروری اشیا روزویلٹ کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں اور سیلرز کی دیکھ بھال کے لیے اضافی طبی عملہ بھی بھجوایا جا رہا ہے۔

مارک ایسپر نے کہا کہ بحری بیڑے پر موجود کسی بھی سیلر کی جان خطرے میں نہیں ہے بحریہ وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹ کٹس بھجوا دی گئی ہیں.ادھر جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کے خط کی اشاعت کے ساتھ یہ دعوی بھی کیا تھا کہ روزویلٹ پر موجود 100 سے زائد سیلرز کرونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں تاہم امریکی بحریہ نے خط کے متن کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے.اس خط سے متعلق نیویارک ٹائمز بھی خبر شائع کر چکا ہے بحریہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری بیڑے کے کپتان کروزیئر نے اپنے خط میں بیڑے پر مسائل اور خدشات سے خبردار کیا ہے.حکام کا کہنا ہے کہ نیوی کی قیادت بیڑے کے عملے کی صحت اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور کمانڈر افسر نے جن تحفظات کا ذکر کیا ہے اسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.#/s#

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…