اسلام آباد(نیو زڈیسک)صوبے سندھ میں گرمی کی لہر کی وجہ سے کم از کم 224 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات کراچی شہر میں ہوئی ہیں جہاں حالیہ دنوں درج حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔ریکارڈ کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ سنہ 1979 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔جناح ہپستال کے شعبے ایمرجنسی کی انچارج سیمی جمالی نے 135، سول ہپستال کے ایم ایس سعید قریشی نے 37 اور عباسی شہید ہپستال کے ایم ایس ڈاکٹر عمران صمدانی نے 44 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اسی طرح سیکریٹری صحت سعید منگنیجو نے بتایا کہ جیکب آباد اور شکارپور میں 3،3 جبکہ لاڑکانہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ مرنے والوں میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد کی تھی۔ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ’لو کے شکار لوگوں کو ہسپتال لایا گیا جنھیں تیز بخار تھا اور ان کے حواس کام نہیں کر رہے تھے، ان میں پانی کی کمی تھی اور ان پر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ایدھی فاو¿نڈیشن کے مطابق ہفتہ سے پیر کی صبح تک سرد خانے میں 350 کے قریب لاشیں لائی گئی تھیں جن میں 45 کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تدفین کردی گئی جبکہ باقی لاشیں لواحقین اپنے ساتھ لائے ہیں۔فلاحی ادارے ایدھی کے سرد خانے میں لاشوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہےایدھی کے ترجمان انور کاظمی کا کہنا ہے کہ سرد خانے میں 250 میتیں رکھنے کی گنجائش ہے۔ تین روز میں لائی گئی میتوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں، بچوں اور نشے کے عادی لوگوں کی میتیں شامل ہیں جن کے سر پر کوئی سایہ نہیں ہوتا۔” اکثر لوگ اس لیے سرد خانے میں میتیں لیکر آئے تھے کہ گھروں میں خراب نہ ہوں کیونکہ تدفین کا بندوبست کرنے عزیز و اقارب کے آنے میں کم سے کم بھی سات سے آٹھ گھنٹے تو لگ ہی جاتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیر کو درجہ حرارت 42 سینٹی گریڈ تک چلا جائے گا، سنیچر کو یہ درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ تھا جس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور منگل کی شام تک امید ہے کہ مون سون کے بادل کراچی پر چھا جائیں گےجس کے نتیجے میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔ترجمان کے مطابق بحیرہ عرب میں جنوب کی جانب ہوا کا کم دباو¿ ہے جس کے باعث کراچی کی معمول کی ہوائی منقطع ہوگئی ہیں۔ بقول ترجمان کے کراچی میں عام طور پر ہوائیں جنوب مغرب سے آتی ہیں اور اس وقت شمالی کی جانب سے ہوائیں آرہی ہیں جو انتہائی گرم ہیں اور اسی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا۔شدید گرمی کی وجہ سے شہریوں کو پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا ہے ،دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کے الیکٹرک کارپوریشن کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی وزیر توانائی اور خزانہ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں 1350 فیڈر ہیں جن میں سے صرف 100 کی معمول کی دیکھ بحال کی گئی تھی جس وجہ سے اس قدر فیڈرز کی شدید ٹرپنگ ہوئی ہے اور حالات خراب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال سے نمنٹے کے لیے کے الیکٹرک کی کوئی تیاری نہیں تھی لوڈ شیڈنگ کا اتنا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ طلب 3100 میگا واٹ تھی جبکہ 2600 ان کے پاس موجود تھی۔ مسئلہ یہ ہوا تھا کہ ان فیڈر ٹرپ کر گئے اور مرمت کے لیے عملہ موجود نہیں تھا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مشہد میں دو دن (آخری حصہ)
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
ایران نے انسانی ہمدردی پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے دی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
3 دن سے لاپتہ چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر کی لاش گاڑی سے برآمد، ہسپتال میں خوف و ہراس
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
کراچی کنگز میں شامل متحدہ عرب امارات کے 2 کھلاڑیوں کو امارتی کرکٹ بورڈ نے وطن واپس بلالیا
-
غیرت کے نام پر بہن اور مبینہ آشنا ہلاک، بھائی سمیت تین ملزمان گرفتار
-
اپنی بیوی سے علیٰحدگی کی افواہوں پر کرکٹر امام الحق کا رد عمل سامنے آگیا
-
مارکیٹیں کس وقت بند ہوں گی؟ بڑی خبر آگئی
-
پسند کی شادی پر بھائی نے بہن کو سرعام ہلاک کر دیا
-
ایران کے پاس 48 گھنٹے باقی ہیں، کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے...
-
نادرا نے ویزا درخواست اور بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مزید آسان کر دیا



















































