اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہماری عادتیں بگڑ گئی ہیں لیکن دیسی کھانوں سے پکے پکائے کھانوں کا مقابلہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔حالیہ کچھ سالوں میں پاکستانیوں نے بحیثیت صارفین اپنی ترجیحات میں تبدیلی کرتے ہوئے قدرتی کھانوں کے بجائے کمرشل طور پر تیار کیے گئے پراسسڈ کھانوں پر انحصار کرنا شروع کردیا ہے، اور اس کی قیمت نہ صرف ہماری صحت ہے، بلکہ کھانے کے معاملے میں ہمارا کلچر اور روایات بھی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہم اپنے مہمانوں کو چائے، بسکٹ، اور نمکو پیش کیا کرتے تھے۔ لیکن پچھلی دو دہائیوں میں مڈل کلاس گھرانوں نے اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع پراسس کی گئی چیزوں سے کرنی شروع کردی ہے۔حال ہی میں میرا ایک ڈنر پارٹی میں جانا ہوا، اور وہاں میزبان نے میرے سامنے ٹن پیک میں آ م کا ملک شیک پیش کیا۔ میں نے کہا کہ ٹیبل پر جو تازہ پھل ا رام کر رہے ہیں، ان کا ملک شیک اس سے زیادہ اچھا بن سکتا تھا، تو میزبان کو ایک لحظے کے لیے دھچکا لگا اور اس نے کہا، ‘لیکن اس کا ذائقہ زیادہ اچھا ہے’۔ایک اور دوست کے گھر میرے سامنے کالی چائے خشک دودھ کے ساتھ پیش کی گئی۔ میں نے جب تازہ دودھ کے لیے کہا تو دوست نے خوشدلی کے ساتھ میری خواہش پوری کرتے ہوئے کہا ‘ویسے خشک دودھ کی چائے زیادہ اچھی بنتی ہے’۔اس سے بھی زیادہ عام مہمانوں کے سامنے ٹھنڈی کوکا کولا پیش کرنا ہے۔پراسسڈ فوڈ کمپنیوں نے اشتہاروں کے ذریعے اینرجی اور ریفریشمنٹ کو ایک برانڈ امیج بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنی پراڈکٹس کے لیے نئے خریدار ملتے ہیں۔کوکا کولا اس سال پاکستان میں اپنی گروتھ میں دو ہندسوں کی شرح سے ترقی کی امید کر رہی ہے۔ پیپسی کولا پاکستان کو اپنی دنیا بھر میں ٹاپ ٹین مارکیٹس میں شمار کرتی ہے، جبکہ ماؤنٹین ڈیو کی فروخت دنیا میں سب سے زیادہ امریکہ میں اور دوسرے نمبر پر پاکستان میں ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…