پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کوئی جنازے کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ ہوا تووالد نے رسی سے باندھ کر بیٹے کولحد میں اُتارا۔۔۔کورونا وائرس سے جاں بحق شخص کی تدفین کتنے افراد نے شرکت کی ؟دل دہلا دینے والا منظردیکھ کر شرکاء روپڑے

datetime 23  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہنگو میں کرونا وائرس کی وجہ سے وفات پانے والے شخص کی میت کی تدفین کے دہل دہلا والے مناظر ، تفصیلات کے مطابق کے پی کے پولیس افسر نے ہنگو میں کرونا وائرس سے مرنے والے شخص کی تدفین کی حالات کی منظر کشی کر دی ۔ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ جب میت کو لحد میں اتارا جارہا تھا تو اس وقت سوائے اس کے والد کے کوئی قریبی رشتہ یا محلہ دار قبر کے قریب نہیں گیا ۔

فضا سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ان دیکھے دشمن کے ڈر سے خوفزدہ تھی ، وہ بھی ایسا دشمن جس کیلئے نہ کوئی سرحد ، نہ عمر ، صنف اور نہ مذہب کی قید و بند ہے ۔ پولیس آفیسر نے بتایا کہ تابوت کو پشاور ایمبولینس سے ہنگو لایا گیا ، اسے سوگواروں سے دور فاصلے پر کھڑا کیا گیا جنہیں ایک خاص جگہ سے آگے جانے کی بالکل اجازت نہ تھی ۔ اس کے والد نے بھی مکمل حفاظتی لباس پہن رکھا تھا لیکن پھر بھی اسے میت کو اتارنے کی اجازت نہ تھی ۔ نماز جنازہ میں امام کے علاوہ صرف پانچ افراد شریک تھے جو نماز کے وقت غمزدہ اور تکلیف سے بے بس رو پڑے ۔پولیس افسر نے مزید بتا یا کہ جب تدفین کی باری آئی تو ریسکیو اہلکار بھی تابوت کو ہاتھ لگانے کیلئے تیار نہ ہوئے پھر فیصلہ کیا گیا کہ ایمبولینس سے تابوت رسیوں کے ذریعے کھنچا کر باہر لایا جائے لیکن پھر تابوت کو کوئی رسی باندھنے کیلئے تیار نہ تھا ۔ والد نے خود تابوت کو رسی باندھنے کی گزارش کی ، یہ منظر انتہائی تکلیف دہ تھا کہ ایک کمزور اور سسکتا باپ اپنے بیٹھے کے تابوت سے رسی باندھ کر رشتہ داروں پڑوسیوں کے سامنے صرف ایک تماشائی کی بنا کھڑا تھا ۔ میت کو ایمبولینس سے اتار کر اسے گھسیٹ کر قبر میں اتارا گیا ۔ بعد ازاں فوت ہونیوالے کے بدقسمت بات کو دوبارہ قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ۔ پولیس والے نے دعاکرتےہوئے کہا اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں ایسا جنازہ پھر دیکھنا نصیب نہ کرے ۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کے تعداد 8سے زائد جبکہ اموات کی تعداد 6ہو گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…