پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کا سفیر ایرانی سفیر سید علی حسینی کو خط بڑی یقین دہانی کرادی

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے ایران کے سفیرسید علی حسینی کو لکھے گئے خط میں ایران کے برادر عوام کو کورونا سے درپیش مشکلات پر دلی دکھ اور پریشانی کا اظہار کیا ہے ،ہمیں کورونا کے مشترکہ چیلنج اور بحران کا سامنا ہے، جانی نقصان پر دکھ اور افسوس ہے ۔ خط کے متن میں شہباز شریف نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے کورونا کی

پیدا شدہ صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے ،آپ نے بجا کہا کہ کورونا کے مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے عالمی برادری کا تعاون درکار ہے ۔پاکستان مسلم لیگ ۔(ن)سمجھتی ہے کہ ایران پر پابندیاں ناقابل قبول اور درپیش چیلنج کے مقابلے میں رکاوٹ ہیں ،انسانی تکالیف کو دور کرنے کے لے یکجہتی اور مدد کی ضرورت ہے ناکہ پابندیوں اور سزا کا راستہ اپنایا جائے،ہماری اولین ترجیح انسانیت کا مفاد ہونا چاہیے ۔شہبازشریف نے کہا کہ کورونا وائرس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے ایران کے عوام کی معاونت کرنے کی ضرورت ہے ،پابندیاں فوری ختم کی جائیں کیونکہ یہ انسانی زندگیاں بچانے کے نیک کام میں رکاوٹ ہیں ۔شہبازشریف نے ایرانی سفیر کو خط میں سعدی شیرازی کی مشہور نظم بنی آدم کے اشعار بھی تحریر کئے ،نظم بنی آدم میں سعدی شرازی نے انسانیت کو ایک جسم کے اعضا قرار دیا ہے ،سعدی شیرازی نے جسم کے ایک حصے میں تکلیف کو پورے جسم کی تکلیف قرار دیا ہے ،یقین دلاتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن)حکومت پاکستان کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ شہباز شریف کے خط کے متن میں مزید کہا کہ حکومت پاکستان سے کہیں گے کہ وہ عالمی سطح پر ایران پر غیرمنصفانہ پابندیاں ختم کرانے میں کردار ادا کرے ،ہم سمجھتے ہیں کہ برادر ایرانی عوام کی مدد ہمارا فرض ہے،ایران کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور عالمی انسانی اقدار کی بالادستی کے ذریعے ایرانی عوام سے یکجہتی کرنا ہوگی ،اسلامی ممالک کی طرف سے برادر ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور معاونت کا اظہار ہونا چاہیے ،کورونا وائرس مشترکہ طورپر انسانیت کا دشمن ہے، متحد ہوکر اور عالمی برادری کے تعاون سے ہی اس پر قابو پاسکتے ہیں ۔ شہباز شریف نے اپنے خط کے متن میں کہا کہ پارلیمانی قیادت کو آپ سے رابطے اور مل کر آگے بڑھنے کی حکمت عملی کی تیاری کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…