لندن (نیوزڈیسک)پورے یورپ پر مبنی ایک پولیس ٹیم بنائی جا رہی ہے جو دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پتہ چلائے گی اور انھیں بلاک کرے گی۔امریکہ میں کیے جانے والے ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ صرف ٹوئٹر پر اس شدت پسند گروپ سے منسلک 46 ہزار اکاؤنٹس ہیں جن میں سے بعض دولت اسلامیہ کے لیے نئے افراد کی شمولیت میں تعاون کرتے ہیں۔یوروپین پولیس ایجنسی یوروپول اب ایک بینام سوشل میڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر ان اکاؤنٹس کا پتہ چلانے کے لیے کام کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ کسی نئے اکاؤنٹ کے بنائے جانے کے دو گھنٹے کے اندر اسے بند کرنے کا ان کا ہدف ہے۔یوروپول کا کہنا ہے کہ یوروپ کے تقریباً پانچ ہزار شہریوں نے ان علاقوں کا سفر کیا ہے جو دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں اور ان میں برطانیہ، فرانس، بیلجیئم، ہالینڈ کے شہری شامل ہیں۔یوروپول کے ڈائرکٹر روب وینرائٹ نے برطانوی اخبار دی گارڈیئن کو بتایا نئی ٹیم آئندہ ماہ یکم جولائی سے اپنا کام شروع کرے گی اور ان کا کام ’آن لائن سرغنہ کی نشاندہی‘ کرنا ہوگا۔تاہم انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کا پتہ چلانا اپنے آپ میں بہت بڑا کام ہے۔واشنگٹن میں بروکلنگ انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس 90 ہزار تک ہو سکتے ہیں۔فروری میں تین نوجوان لڑکیاں جو لندن کے ایک ہی سکول میں زیر تعلیم تھیں انھوں نے پہلے ترکی کا رخ کیا پھر وہاں سے شام چلی گئیں۔بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک شمیمہ بیگم دولت اسلامیہ کے کسی جنگجو کی اہلیہ کے ساتھ ٹوئٹر پر رابطے میں تھیں۔ان کے خاندان کے لیے کام کرنے والے وکیل نے بتایا کہ پولیس تمام پیغامات کی نگرانی کر رہی تھی اور اسے ان لوگوں کے گھر چھوڑنے سے پہلے حرکت میں آنا چاہیے تھا۔کیا دولت اسلامیہ کے حامیوں کو مین سٹریم سوشل نٹورک سے نکال باہر کیا جا رہا ہے؟جہادی گروپوں کے ماہر اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں فیلو ایرون زیلن کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو عام طور پر ممکنہ نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن براہ راست نہیں۔انھوں نے کہا کہ زیادہ کھلے طور پر بھرتی کے سلسلے میں سکائپ، واٹس ایپ اور کک پر باتیں ہوتی ہیں۔جہادی اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے والے گروپ سائٹ کی ایک ڈائرکٹر ریٹا کیٹز کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو ہمیشہ آن لائن پر سوشل میڈیا پر بلاک ہونے سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں فخریہ بیان جاری کیا کرتے ہیں۔اپریل میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں ریٹا کیٹز نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے بہتر سکیورٹی انتظامات پر زور دیا اور صرف اکاؤنٹس کے روکے جانے کو ناکافی بتایا۔انھوں نے لکھا: ’اندھیرے میں تیر چلانا بند کریں اور ٹوئٹر پر دولت اسلامیہ اور ان کے حامیوں کو پہچانیں۔ وہ پرعزم ہیں اور خطرناک حد تک ڈھلنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹویٹ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ٹوئٹر بذات خود ان کے فروغ اور وجود کا اہم ذریعہ ہے۔‘
دولت اسلامیہ کی نگرانی کے لیے نئی یورپی پولیس ٹیم کا قیام
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































