جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سری نگر جیل میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا شدید خطرہ ، سیاسی قیدیوں کو فوراً رہا کیا جائے، مفتی اعظم مقبوضہ کشمیر کا مطالبہ

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

سری نگر(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کی مختلف جیلوں میں رکھے گئے کشمیری سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے کیونکہ انہیں کورنا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق، مفتی اعظم مقبوضہ کشمیر نے سری نگر سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت کو کورونا وائرس کے حوالے سے سنگین اور ہنگامی صورتِ حال کو سمجھنا چاہیے اور معمولی جرائم میں گرفتار قیدیوں کو فورا ان کے گھروں پر منتقل کردینا چاہیے۔سری نگر جیل

میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے، انہوں نے اپنے بیان میں کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں فی الحال کورونا وائرس پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں جس کے پیشِ نظر مساجد کو نماز کیلیے بند کردیا جائے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس بارے میں بھی کوئی مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔اسی کے ساتھ انہوں نے ہفتے کے روز مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے بارے میں مناسب لائحہ عمل پر بات چیت کیلیے تمام مکاتبِ فکر کے نمائندوں خصوصی اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ علما شرکت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…