کراچی (نیوزڈیسک) کراچی میں گرمی کی شدت کے باعث گذشتہ دو دنوں میں 84 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے وگلوں کی اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ساحلی شہر گزشتہ 24 گھنٹوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔شہر میں جون 1979 میں ریکارڈ 47 سینٹی گریڈ گرمی پڑی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں لو ڈپریشن یا کم دباو¿ کی وجہ سے معمول کی ہوا میں کمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو دس دس افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا، جبکہ چار کی موت شعبہ حادثات میں ہوئی ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے جن کو تیز بخار اور الٹی کی شکایت تھی جبکہ گرمی کے باعث پہلے سے بیمار افراد کی بھی طبیعت بگڑ گئی۔دوسری جانب سول ہپستال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سعید قریشی کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہپستال میں گرمی کی شدت کے باعث کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔فلاحی ادارے ایدھی فاو¿نڈیشن کا کہنا ہے کہ دو روز میں اس نے 30 سے زائد افراد کو مردہ حالت میں ہپستالوں تک پہنچایا ہے،جبکہ اسی عرصے میں ایدھی سرد خانے میں لاشوں کی آمد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کا بھی بحران ہےایدھی فاو¿نڈیشن کے رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ہلاک ہونے والے لوگوں کی میتیں بھی بڑی تعداد میں سرد خانے لائی گئی ہیں کیونکہ لواحقین کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سخت گرمی کی وجہ سے میتیں خراب نہ ہوجائیں۔دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں گرمی کے دوران بجلی کی عدم فراہمی نے لوگوں کو مشتعل کردیا۔ ابو الحسن اصفہانی روڈ اور گلشن اقبال سمیت کئی علاقوں میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی نے شہر میں جاری پانی کی قلت کو بھی سنگین کردیا ہے۔کے الیکٹرک کے مطابق گرمی کے باعث بجلی کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ فیلڈ فورس نے کافی حد تک فالٹ دور کردیئے ہیں۔ فیڈرل بی ایریا، گلشن، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، جمشید روڈ، ابو الحسن اصفہانی روڈ، شاہ فیصل اور کورنگی کے علاقے میں دشواری کا سامنا ہے۔ترجمان کے مطابق مشتعل افراد کے حملوں کے سبب ان علاقوں میں فالٹس کی درستگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے مرمت کے کام پر مامور عملے کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے اور اگلے دس سے بارہ گھنٹوں میں صورتحال میں واضح بہتری آئیگی۔دریں اثناءپاکستان کے محکمہ موسمیات کے ایک ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرمی کی یہ شدت پری مون سون بارشوں یا مون سون کی ابتدائی بارشوں کے ہونے تک برقرار رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں سنیچر کو پہلی بارش ہوئی ہے اور اب ان بارشوں کا دوسرا دور ہو گا جس کی وجہ سے پنجاب کے 90 فیصد علاقے اور سندھ کے 68 فیصد علاقے میں بارشیں ہوں گی۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک ملنے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال مون سون کمزور ہو گا اور گرمی کی لہر کچھ عرصہ تک چلے گی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مشہد میں دو دن (آخری حصہ)
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
ایران نے انسانی ہمدردی پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے دی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
3 دن سے لاپتہ چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر کی لاش گاڑی سے برآمد، ہسپتال میں خوف و ہراس
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
کراچی کنگز میں شامل متحدہ عرب امارات کے 2 کھلاڑیوں کو امارتی کرکٹ بورڈ نے وطن واپس بلالیا
-
غیرت کے نام پر بہن اور مبینہ آشنا ہلاک، بھائی سمیت تین ملزمان گرفتار
-
اپنی بیوی سے علیٰحدگی کی افواہوں پر کرکٹر امام الحق کا رد عمل سامنے آگیا
-
مارکیٹیں کس وقت بند ہوں گی؟ بڑی خبر آگئی
-
پسند کی شادی پر بھائی نے بہن کو سرعام ہلاک کر دیا
-
ایران کے پاس 48 گھنٹے باقی ہیں، کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے...
-
نادرا نے ویزا درخواست اور بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مزید آسان کر دیا



















































