بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

کراچی شدید گرمی سے کم از کم افراد 84 جاں بحق

datetime 21  جون‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) کراچی میں گرمی کی شدت کے باعث گذشتہ دو دنوں میں 84 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے وگلوں کی اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ساحلی شہر گزشتہ 24 گھنٹوں سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔شہر میں جون 1979 میں ریکارڈ 47 سینٹی گریڈ گرمی پڑی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں لو ڈپریشن یا کم دباو¿ کی وجہ سے معمول کی ہوا میں کمی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو دس دس افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا، جبکہ چار کی موت شعبہ حادثات میں ہوئی ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عمر رسیدہ افراد کی ہے جن کو تیز بخار اور الٹی کی شکایت تھی جبکہ گرمی کے باعث پہلے سے بیمار افراد کی بھی طبیعت بگڑ گئی۔دوسری جانب سول ہپستال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سعید قریشی کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہپستال میں گرمی کی شدت کے باعث کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔فلاحی ادارے ایدھی فاو¿نڈیشن کا کہنا ہے کہ دو روز میں اس نے 30 سے زائد افراد کو مردہ حالت میں ہپستالوں تک پہنچایا ہے،جبکہ اسی عرصے میں ایدھی سرد خانے میں لاشوں کی آمد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کا بھی بحران ہےایدھی فاو¿نڈیشن کے رضاکار انور کاظمی کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر ہلاک ہونے والے لوگوں کی میتیں بھی بڑی تعداد میں سرد خانے لائی گئی ہیں کیونکہ لواحقین کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں سخت گرمی کی وجہ سے میتیں خراب نہ ہوجائیں۔دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں گرمی کے دوران بجلی کی عدم فراہمی نے لوگوں کو مشتعل کردیا۔ ابو الحسن اصفہانی روڈ اور گلشن اقبال سمیت کئی علاقوں میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ بجلی کی عدم دستیابی نے شہر میں جاری پانی کی قلت کو بھی سنگین کردیا ہے۔کے الیکٹرک کے مطابق گرمی کے باعث بجلی کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ فیلڈ فورس نے کافی حد تک فالٹ دور کردیئے ہیں۔ فیڈرل بی ایریا، گلشن، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، جمشید روڈ، ابو الحسن اصفہانی روڈ، شاہ فیصل اور کورنگی کے علاقے میں دشواری کا سامنا ہے۔ترجمان کے مطابق مشتعل افراد کے حملوں کے سبب ان علاقوں میں فالٹس کی درستگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے مرمت کے کام پر مامور عملے کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے اور اگلے دس سے بارہ گھنٹوں میں صورتحال میں واضح بہتری آئیگی۔دریں اثناءپاکستان کے محکمہ موسمیات کے ایک ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرمی کی یہ شدت پری مون سون بارشوں یا مون سون کی ابتدائی بارشوں کے ہونے تک برقرار رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں میں سنیچر کو پہلی بارش ہوئی ہے اور اب ان بارشوں کا دوسرا دور ہو گا جس کی وجہ سے پنجاب کے 90 فیصد علاقے اور سندھ کے 68 فیصد علاقے میں بارشیں ہوں گی۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک ملنے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال مون سون کمزور ہو گا اور گرمی کی لہر کچھ عرصہ تک چلے گی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…