بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کیا موسم گرما کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہےاوراس وائرس کے وبا کب تک تم جائے گی ؟ماہرین نے تحقیق میں عوام کو بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 15  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موسم گرما میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہوسکتا ہے؟ تحقیق کی روشنی میں جانتے ہیں۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک محقق کرسٹوفر موریس کے مطابق یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ موسم گرما میں وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق جرمن نشریاتی ادارے نے بتایا ہے کہ میں جرمنی کے شہر ہینوور کے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ وائرولوجسٹ تھوماس پیٹشمان کہتے ہیں کہ

یوں تو کم درجہ حرارت میں وائرس مستحکم ہوتا ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے فریج میں رکھا ہوا کھانا زیادہ دیر تازہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے گرد چربی کی تہہ ہوتی ہے جو گرمی کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ حرارت بڑھتے ہی تہہ ٹوٹ جاتی ہے لیکن اس وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ انسانوں کو پہلی مرتبہ اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔”سائنس دانوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چین کے ٹھنڈے علاقوں کے علاوہ نسبتاً گرم اور مرطوب آب و ہوا والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق موسم بہار اور گرمی کی شدت بڑھنے سے امیدیں تو وابستہ ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ دوسری جانب وبائی زکام کے وائرس کے برعکس انسانوں کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے جرثومے کے حملے کے لیے تیار نہیں ہے۔طبی ماہرین اس بات کی امید ظاہر کر رہے ہیں کہ شمالی کرہ ارض میں ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کی وبا موسم بہار کے آغاز کے ساتھ تھم جائے گی۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوبی کرہ ارض کے ممالک آسٹریلیا اور برازیل میں SARS-CoV-2 کے کئی مریض موجود ہیں، اور ان علاقوں میں ابھی خشک اور سرد موسم نے آنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…