جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

طالبا ن نے افغان حکومت کی طرف سے قیدیوں کی مشروط رہائی کو مسترد کر دیا، پہلے یہ کام کریں پھر ڈائیلاگ کا آغاز ہو گا، طالبان نے مطالبہ پیش کر دیا

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

کابل( آن لائن ) افغانستان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں می مشروط رہائی کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان طالبان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔قطر میں امریکہ کے ساتھ معاہدے میں باضابطہ طور پر یہ بات شامل تھی کہ پہلے 5 ہزار قیدی رہا کئے جائیں گے اور بعد میں انٹر افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہو گا۔

اس لئے اگر قیدیوں کو مشرو ط طریقے سے رہا کیا گیا تو یہ امن معاہدے کی مخالفت ہو گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان افغان حکومت صدیق صدیقی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تشدد ختم کر دیا جائے گا تو حکومت ہمارے پاس قید 5 ہزار طالبا ن کو رہا کر دے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ ایسا کچھ ہو تو انہیں پہلے تشدد کو ختم کرنا ہو گا۔ابتدائی طور پر نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان حکومت 1500 قیدیوں کو رہا کرے گی ، باقی 3500 قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ مذاکرات پر عمل شروع پوہونے کے بعدکیا جائے گا۔ گزشتہ مہینے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا۔قطر میں ہونے والے معاہدے میں افغانستان میں امن پیدا کرنے کے حوالے سے مذاکرات کئے گئے تھے جس کے بعد طالبان نے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان ان کے قیدیوں کو رہا کرے۔ابتدائی طور پر افغانستان نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد طالبان کی جانب سے حملہ بھی کیا گیا تھا اور امریکی ردعمل بھجی دیکھنے میں آیا تھا۔لیکن اب ترجمان افغانستان حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان قیدی طالبان کو رہا کر دے گا۔ترجمان کی جانب سے یہ اعلان امریکہ کی پہل کے بعد کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…