جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

طالبا ن نے افغان حکومت کی طرف سے قیدیوں کی مشروط رہائی کو مسترد کر دیا، پہلے یہ کام کریں پھر ڈائیلاگ کا آغاز ہو گا، طالبان نے مطالبہ پیش کر دیا

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

کابل( آن لائن ) افغانستان حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں می مشروط رہائی کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان طالبان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔قطر میں امریکہ کے ساتھ معاہدے میں باضابطہ طور پر یہ بات شامل تھی کہ پہلے 5 ہزار قیدی رہا کئے جائیں گے اور بعد میں انٹر افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہو گا۔

اس لئے اگر قیدیوں کو مشرو ط طریقے سے رہا کیا گیا تو یہ امن معاہدے کی مخالفت ہو گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان افغان حکومت صدیق صدیقی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تشدد ختم کر دیا جائے گا تو حکومت ہمارے پاس قید 5 ہزار طالبا ن کو رہا کر دے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ ایسا کچھ ہو تو انہیں پہلے تشدد کو ختم کرنا ہو گا۔ابتدائی طور پر نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان حکومت 1500 قیدیوں کو رہا کرے گی ، باقی 3500 قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ مذاکرات پر عمل شروع پوہونے کے بعدکیا جائے گا۔ گزشتہ مہینے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا۔قطر میں ہونے والے معاہدے میں افغانستان میں امن پیدا کرنے کے حوالے سے مذاکرات کئے گئے تھے جس کے بعد طالبان نے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان ان کے قیدیوں کو رہا کرے۔ابتدائی طور پر افغانستان نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد طالبان کی جانب سے حملہ بھی کیا گیا تھا اور امریکی ردعمل بھجی دیکھنے میں آیا تھا۔لیکن اب ترجمان افغانستان حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان قیدی طالبان کو رہا کر دے گا۔ترجمان کی جانب سے یہ اعلان امریکہ کی پہل کے بعد کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…