جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سب جانتے ہیں پاکستان نے طالبان کو پناہ دے رکھی ہے،سابق امریکی سفیرکی ہرزہ سرائی

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

کابل(این این آئی)افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر رونلڈ نیومن نے کہا ہے کہ افغان سیاسی قائدین ایک دوسرے میں الجھنے کے بجائے قومی مفاد کو اولیت دیں اور اسے ہر صورت مقدم رکھیں۔انھوں نے یہ بات امریکی ٹی وی کو انٹرویومیں کہی ۔

نیومن نے کہا کہ یہ بات بے معنی ہے کہ انتخابات شفاف تھے یا دھاندلی زدہ، کم لوگوں نے ووٹ دیے یا زیادہ لوگوں نے۔ ہر صورت میں یہ افغانوں کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور ملک کی بہتری کا سوچیں۔انھوں نے کہا کہ افغان رہنماؤں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اب امریکہ ان کے مسائل کا حل نہیں بتائے گا بلکہ افغانوں کو خود معاملات طے کرنے ہوں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے اور لڑتے رہیں گے تو یہ افغانستان کی تباہی کا باعث بنے گا۔ یہ ان کا قصور ہوگا، نہ کہ امریکہ کا۔صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان چھوڑ دیں۔ اس بارے میں سوال پر سابق امریکی سفیر نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان نے طالبان کو پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ جب تک افغانستان میں امن ہوگا، طالبان پاکستان چھوڑیں گے۔انھوں نے بتایا کہ ان کی طالبان سے قربت رکھنے والے کچھ لوگوں سے گفتگو ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان پاکستان میں خود کو آزاد محسوس نہیں کرتے۔تاہم انھوں نے کہا کہ جب تک بین الافغان مذاکرات کے ذریعے حتمی امن سمجھوتا طے نہیں ہوتا، طالبان افغانستان منتقل نہیں ہوں گے کیونکہ انھیں یہ خوف رہے گا کہ کہیں انہیں امریکی فضائی حملوں کا ہدف نہ بنایا جائے۔نیومن نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کے آغاز میں آٹھ دس روز باقی ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ معاملات کس طرح آگے چلیں گے۔ افغانستان میں کوئی چیز بروقت نہیں ہوپاتی اس لیے ایسا نہ ہوا تو کوئی زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…