جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عمرہ پر عارضی پابندی شریعت کے مطابق قرار! امام مسجد حرام،مسجد نبویؐ نے خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق ؓ کے دور میں پیش آنیوالے واقعے کو بطور سند پیش کردیا

datetime 7  مارچ‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)امام مسجد حرام اور ممتاز عالم دین الشیخ ڈاکٹر عبداللہ الجھنی اور مسجد نبوی کے امام وخطیب الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر نے سعودی حکومت کی طرف سے کرونا وباء کے خطرے کی وجہ سے عارضی طور پر عمرہ کی ادائی اور مسجد نبوی کی زیارت پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ دونوں علماء نے کرونا کی وجہ سے اس عارضی پابندی کی حمایت کرتے ہوئے اسے شریعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ فیصلہ قرار دیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق مسجد حرام کے امام وخطیب الشیخ ڈاکٹر عبداللہ الجھنی نے جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز کی قیادت میں مملکت نے کرونا وائرس کی وجہ سے عمرہ کی ادائی پر جو عارضی پابندی لگائی ہے وہ اسلامی شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا مقصد انسانی جانوں کو ایک موذی بیماری کے خطرے سے بچانا ہے۔ انسانی جانوں کا تحفظ حاکم وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔انہوں نے خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آنے والے ایک واقعے کو بہ طور سند پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کے محاذ پر جانے کی تیاری کرنے لگے تو ان کے سپہ سالار عبیدہ بن الجراح اور دیگر صحابہ نے بتایا کہ شام میں ایک وباء پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے اپنے دیگر ساتھیوں اور کبار صحابہ سے مشورہ کیا۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب تمہیں پتا چلے کہ ایک ملک میں بیماری پھیلی ہے تو اس طرف نہ جائو۔ اگر تم اس کے اندر ہو تو وہاں سے باہر نہ نکلو، یہ سن کر حضرت عمر نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شام کے سفر کا ارادہ ترک کردیا۔

یہ واقعہ بخاری اور مسلم شریف دونوں میں تفصیل کیساتھ موجود ہے۔ یہ حدیث وبائی امراض پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کا شرعی جواز اور دلیل ہے۔ادھر مسجد نبوی کے امام وخطیب الشیخ ڈاکر صلاح البدیر نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ اس وقت پوری دنیا ایک خطرناک وباء کی لپیٹ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وبائی امراض کے خطرات سے بچائو کے لیے حکومتی اقدامات شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…