جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی اراکین پارلیمان نے دہلی فسادات پر حکومتِ برطانیہ سے جواب مانگ لیا مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور مذہبی مقامات تباہ کرنیوالوں کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بننا

datetime 5  مارچ‬‮  2020 |

لندن( آ ن لائن ) دہلی میں حالیہ فسادات میں 45 افراد کی ہلاکت پر برطانوی اراکین پارلیمان نے خارجہ اور دولت مشترکہ کے دفتر (ایف سی او) پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر بھارتی حکومت سے کی گئی بات چیت کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سکھ اراکینِ پارلیمان تنمنجیت سنگھ دیشی اور پریت گِل کور نے دہلی فسادات پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی دوران پارلیمنٹ میں ایف سی او کے نمائندوں کے لیے ایک فوری سوال پوچھتے ہوئے لیبر پارٹی کے رکن تنمنجیت سنگھ دیشی کا کہنا تھا کہ دہلی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے فسادات نے ’دردناک یادیں تازہ کردی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’1984 میں بطور ایک مذہبی اقلیت (میں نے )سکھوں کی نسل کشی ہوتے دیکھی ہے جب میں بھارت میں زیر تعلیم تھا، اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سیکھنے کی ضرورت ہے، معاشرے کو تقسیم کرنے کے ارادے رکھنے والوں (اور جو) مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور مذہبی مقامات تباہ کرنے پر تلے ہیں ان کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بننا‘۔انہوں نے کہا کہ ’میں وزیر سے پوچھتا ہوں کہ بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم پر انہوں نے بھارتی ہم منصب کو کیا پیغام دیا؟‘لیبر پارٹی کی ہی رکن پارلیمان پریت گِل کور نے بھی دریافت کیا کہ ’کیا وزیر بتاسکتے ہیں کہ اس بات کو یقنی بنانے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے کہ بھارت میں تمام نسلی و مذہبی اقلیتوں خود کو محفوظ اور ظلم و ستم سے آزاد تصور کریں؟‘ ان کے علاوہ ایک رکن پارلیمان خالد محمود نے بھی سوال کیا کہ دہلی میں ہونے والے فسادات کے ردِ عمل میں برطانوی حکومت کیا کررہی ہے؟

خالد محمود نے کہا کہ فسادات ’تشویشناک‘ تھے اور خبردار کیا کہ بھارٹی شہریتی ترمیمی قانون 2019 کے تحت شہریوں کی قومی رجسٹریشن کی جائے گی جس کے بعد ملسمانوں ’حراستی مراکز میں رکھنے‘ کے بعد ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مودی کے اقدامات ان کے نعرے ’ہندوؤں کا بھارت‘ کو ’نفرت انگیز قوم پرست مظالم‘ کی صورت میں ڈھال رہے ہیں۔خالد محمود نے ایوان کو بتایا کہ مسلمانوں کو سڑکوں پر تشدد اور قتل کیا جاتا رہا جبکہ پولیس نے کچھ نہیں اور ’مودی نے انتخابی کامیابی سے مذموم فائدہ اٹھایا‘۔

سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے ایف سی او نائیجیل ایڈمز نے کہا کہ ’نئی دہلی میں موجود برطانوی ہائی کمیشن اور بھارت بھر میں ہمارے ڈپٹی ہائی کمشران کا سفارتی نیٹورک بھارت میں ہونے والے حالیہ فسادات اور شہریت ترمیمی قانون 2019 سے متعلق ہونے والے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’دہلی میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات بہت تشویشناک تھے اور صورتحال تاحال کشیدہ ہے، ایک احتجاج کرنے والے کی موت بھی بہت زیادہ ہے ہم تمام فریقین پر تحمل برقرار رکھنے کے لیے زور دیتے ہیں اور بھارتی حکومت پر بھروسہ رکھتے ہیں ہ وہ بھارت میں تمام مذاہب کے افراد کے تحفظات دور کرے گی‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…