پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کورونا سےبچاؤ میں پیاز یا کسی خاص خوراک کا کوئی رول نہیں ‘ماہرین نے وائرس سے محفوظ رہنے کا آسا ن طریقہ بتا دیا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) کورونا وائرس سے محفوظ رہنے میں پیاز کا جوس یا کسی مخصوص غذا کا کوئی رول نہیں تاہم متوازن خوراک ، جسمانی صفائی، ہاتھ دھونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ماسک کا استعمال نزلہ زکام اور کھانسی کے مریض لازمی استعمال کریں، عام آدمی کیلئے ماسک پہننا ضروری نہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ صحت عامہ کے فروغ اور بیماریوں کی روک تھام کیلئے

اپنا کردار ادا کر رہا۔ان خیالات کا اظہار ڈین IPH پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹس نے انسٹیٹیوٹ میں کورونا وائرس کے بارے عوامی آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کوئی نئی بیماری نہیں البتہ وائرس نے اپنی شیپ تبدیل کرلی ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے صفائی کا خاص خیال رکھنا اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے بارے گائیڈ لائنز IPH نے پہلے ہی جاری کردی ہیںاور اس حوالے سے صحت پیغام ورچوئل یونیورسٹی کے میڈیا چینلز سے بھی نشر کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر زرفشاں نے بتایا کہ انسٹیٹیوٹ میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسز کو حفاظتی لباس ((PPE) پہننے کی ٹریننگ دے کر ماسٹر ٹرینر تیار کئے ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ہدیٰHudaکا کہنا تھا کہ متوازن غذا اور صفائی سے جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے جو بیماریوں سے محفوظ رہنے میں مدد گار ہے۔‎ انہوں نے مزید کہا کہ کسی خاص خوراک یا کسی پھل کا جوس کورونا وائرس سے محفوظ رہنے یا علاج میں مؤثر ہونے کا سائنسی ثبوت نہیں اور اس حوالے سے افواہوں پر عوام توجہ نہ دیں۔ ڈاکٹر سمیہ نے اپنے لیکچر میں کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے عوام میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹوٹکے اور انٹیبوٹک ادویات کا استعمال بالکل غیرمناسب اور بیکار ہے۔ سیمینار سے ڈاکٹر انجم رزاق، ڈاکٹر نادیہ مختار، ڈاکٹر رخسانہ حمید نے

بھی خطاب کیا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ابھی تک کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب نہیں لہٰذا احتیاط اور پرہیز ہی بچاؤ کا ذریعہ ہیں، معا لجین نے کہا کہ لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں محض تھوڑی سی احتیاط وائرس سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور ”صفائی نصف ایمان ہے”کو عملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ماسک پہننا وائرس سے متاثرہ شخص، علاج کرنے والے ڈاکٹر، سٹاف اور تیماردار کیلئے

ضروری ہے لیکن ایک صحت مند عام آدمی کیلئے ماسک کا استعمال ضروری نہیں لہٰذا عوام ماسک کے حصول کیلئے تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ وائرس انسانی جسم میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا، نزلہ زکام کے ساتھ اگر سانس لینے میں دقت محسوس ہو تو ضرور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔گوشت کھانے، پالتو جانوروں کو رکھنے سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور ایسا کرنے والے کسی کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ اس حوالے سے ہیلپ لائن 1166 سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…