بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا سےبچاؤ میں پیاز یا کسی خاص خوراک کا کوئی رول نہیں ‘ماہرین نے وائرس سے محفوظ رہنے کا آسا ن طریقہ بتا دیا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) کورونا وائرس سے محفوظ رہنے میں پیاز کا جوس یا کسی مخصوص غذا کا کوئی رول نہیں تاہم متوازن خوراک ، جسمانی صفائی، ہاتھ دھونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ماسک کا استعمال نزلہ زکام اور کھانسی کے مریض لازمی استعمال کریں، عام آدمی کیلئے ماسک پہننا ضروری نہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ صحت عامہ کے فروغ اور بیماریوں کی روک تھام کیلئے

اپنا کردار ادا کر رہا۔ان خیالات کا اظہار ڈین IPH پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹس نے انسٹیٹیوٹ میں کورونا وائرس کے بارے عوامی آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کوئی نئی بیماری نہیں البتہ وائرس نے اپنی شیپ تبدیل کرلی ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے صفائی کا خاص خیال رکھنا اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے بارے گائیڈ لائنز IPH نے پہلے ہی جاری کردی ہیںاور اس حوالے سے صحت پیغام ورچوئل یونیورسٹی کے میڈیا چینلز سے بھی نشر کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر زرفشاں نے بتایا کہ انسٹیٹیوٹ میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسز کو حفاظتی لباس ((PPE) پہننے کی ٹریننگ دے کر ماسٹر ٹرینر تیار کئے ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ہدیٰHudaکا کہنا تھا کہ متوازن غذا اور صفائی سے جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے جو بیماریوں سے محفوظ رہنے میں مدد گار ہے۔‎ انہوں نے مزید کہا کہ کسی خاص خوراک یا کسی پھل کا جوس کورونا وائرس سے محفوظ رہنے یا علاج میں مؤثر ہونے کا سائنسی ثبوت نہیں اور اس حوالے سے افواہوں پر عوام توجہ نہ دیں۔ ڈاکٹر سمیہ نے اپنے لیکچر میں کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے عوام میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جارہی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹوٹکے اور انٹیبوٹک ادویات کا استعمال بالکل غیرمناسب اور بیکار ہے۔ سیمینار سے ڈاکٹر انجم رزاق، ڈاکٹر نادیہ مختار، ڈاکٹر رخسانہ حمید نے

بھی خطاب کیا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ابھی تک کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب نہیں لہٰذا احتیاط اور پرہیز ہی بچاؤ کا ذریعہ ہیں، معا لجین نے کہا کہ لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں محض تھوڑی سی احتیاط وائرس سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور ”صفائی نصف ایمان ہے”کو عملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ماسک پہننا وائرس سے متاثرہ شخص، علاج کرنے والے ڈاکٹر، سٹاف اور تیماردار کیلئے

ضروری ہے لیکن ایک صحت مند عام آدمی کیلئے ماسک کا استعمال ضروری نہیں لہٰذا عوام ماسک کے حصول کیلئے تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ وائرس انسانی جسم میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا، نزلہ زکام کے ساتھ اگر سانس لینے میں دقت محسوس ہو تو ضرور ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔گوشت کھانے، پالتو جانوروں کو رکھنے سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور ایسا کرنے والے کسی کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ اس حوالے سے ہیلپ لائن 1166 سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…