اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بھارت , 200 سے زائد نمونوں میں پولیو کی موجودگی کا انکشاف

datetime 20  جون‬‮  2015 |

بریلی(نیوزڈیسک) پولیو سے پاک بھارت کے اعلان کے ایک سال بعد ہی بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی سے حاصل کیے جانے والے 200 سے زائد نمونوں میں پولیو کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپوٹ کے مطابق ضلع بریلی سمیت چار اضلاع باہری، فرید پور، میرگنج اور نواب گنج سے ٹیسٹ کےلئے حاصل کئے گئے ان نمونوں نے محکمہ صحت کی تشویش میں اضافہ کردیا اور نمونوں کو مزید ٹیسٹ کے لیے ممبئی کی لیبارٹریز کو بھجوا دیا گیا حکام نے کہا کہ اس علاقے میں 5 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی شکایات بھی آرہی ہیں۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلو ایچ او) کے قوانین کے مطابق کسی بھی ملک سے بیماری کے مکمل خاتمے کا اعلان مسلسل 3 سالوں تک یہاں اس بیماری کا ریکارڈ صفر ہونے پر کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ بھارت میں پولیو کا آخری کیس 13 جنوری 2011ءمیں کلکتہ کی ایک 18 ماہ کی بچی میں سامنے آیا تھا جس کے 3 سال بعد بھارت کو پولیو سے پاک ملک قرار دے دیا گیا۔ڈاکٹروں کی ٹیم پولیو سے متاثر ہونے والے حالیہ اضلاع میں تحقیقات کے لیے موجود ہے جو بعدازاں اس حوالے سے ڈبلو ایچ او کے حکام کو آگاہ کرے گی۔ڈاکٹروں کی ٹیم کی جانب سے 208 بچوں کے فضلے کے نمونے ممبئی کی ایک لیب کو بھیجے گئے ہیں جن کی رپورٹ کا تاحال انتظار کیا جارہا ہے۔چیف میڈیکل افسر وی جے یاداو کے مطابق ہم نے ضلع بھر میں ٹیمیں روانہ کردی ہے ہیں جو ان کیسز پر نظر رکھے گی ہاتھوں اور ٹانگوں میں کمزوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کو پولیو کا مرض ہے۔انہوںنے کہاکہ 170 نمونوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور دیگر رپورٹس کا انتظار کیا جارہا ہے۔وی جے یاداو کے مطابق بریلی میں آخری پولیو کیس 2009ءمیں رپورٹ ہوا تھا ¾ اترپریش کی ریاست میں آخری پولیو کا کیس ضلع فیروز آباد میں 2010ءمیں رپورٹ ہوا تھا ر واں سال ڈبلو ایچ او کی جانب سے ملک بھر سے 5551 نمونے حاصل کئے گئے تھے جن میں اکثر کی رپورٹس منفی ہیں تاہم 787 نمونوں کی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔بھارتی محکمہ صحت کے افسر کے مطابق رواں سال دنیا بھر سے 25 پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں اکثر پاکستان سے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سرحدیں بھارت کے ساتھ منسلک ہیں اس لیے انہیں انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…