جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

باس ہو تو ایسا! ہرملازم کی تنخواہ 70 ہزار ڈالرکرنےکیلئے ایسی ناقابل یقین قربانی دیدی کہ آپ کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائینگی

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

سیاٹل(این این آئی) پوری دنیا کے ملازمین میں تنخواہوں کا فرق ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی ایذا کی وجہ بن رہا ہے لیکن اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ایک کمپنی کے مالک نے نہ صرف اپنے عملے کے ہرفرد کی تنخواہ کم ازکم 70 ہزار ڈالر سالانہ کردی ہے بلکہ اس کے لیے اپنی تنخواہ میں سے بھی کٹوتی کی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق 2015 میں گریویٹی پیمنٹس نامی کمپنی کے مالک کو کمپنی کی ایک اہلکار سے بات کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ 40 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ ہونے کے باوجود ان خاتون کا گزارہ نہیں ہورہا کیونکہ سیاٹل شہر میں رہائش بہت مہنگی ہے اور کرائے کے مکان کی بنا پر خاتون اپنے بچوں کی کفالت کرنے سے قاصر تھیں اور قرض میں پھنستی جارہی تھیں۔اس کے بعد کمپنی کے سی ای او ڈین پرائس نے خود اپنی تنخواہ میں کمی کی جو لاکھوں ڈالر تھی اور اپنے ادارے کے ہر ملازم کی کم ازکم تنخواہ 70 ہزار ڈالر کردی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے دو مکان بھی کرائے پر دے دیئے تاکہ مزید بچت کی جاسکے۔شروع میں دوسری کمپنیوں کے مالکان نے اس فیصلے پر تنقید کی لیکن 2015 میں بڑھائی جانے والی یہ تنخواہ اب بھی برقرار ہے اور ڈین کے مطابق اس کا کمپنی کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس سے قبل کمپنی کے ایک فیصد افراد ہی اپنا مکان خریدنے یا اقساط دینے کی سکت رکھتے تھے لیکن تنخواہ میں اضافے کے بعد کمپنی کے 10 فیصد ملازمین نے امریکہ کے مہنگے ترین شہر میں اپنا مکان بنانے کا خواب پورا کیا ہے۔کمپنی کے دو سینیئر اہلکار نے یہ کہہ کر استغفیٰ دیدیا تھا کہ اس طرح ایک دم تنخواہ بڑھنے سے نئے اور کم عمر ملازم بے فکرے اور نااہل ہوجائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور انہوں نے زیادہ مستعدی سے کام کیا۔ پھر تنخواہ بڑھنے سے بعض ملازموں نے دفتر کے پاس گھر کا انتظام کیا اور کمپنی کو رضاکارانہ طور پر زیادہ وقت دینے لگے۔دوسری جانب لوگ کھانے پینے کی فکروں سے آزاد ہوئے ہیں اور پوری توجہ سے کمپنی کا کام کرنے لگے ہیں۔ ڈین کا خیال ہے کہ ان کے اس عمل کی پیروی دوسری کمپنیاں بھی کریں گی تاکہ تنخواہوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کیا جاسکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…