جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

بھارت میں تشدد کے ان گنت واقعات ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کر دی

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی)ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے، بھارت میں تشدد کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار ان سیاسی قائدین کو ٹھہرایا ہے، جو نفرت انگیز تقاریر کر کے پرتشدد ماحول پیدا کررہے ہیں۔ ایمنسٹی نے ان کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق نئی دہلی اور بینگلور سے شائع ہونے والی ایمنسٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیاکہ نئی دہلی کے شمال مشرقی حصے میں

ہونے والے فسادات میں اب تک بتیس سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ  100 سے زیادہ زخمی ہیں۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہونے والے پر تشدد واقعات اور ان سے پہلے رونما ہونے والے ایسے ہی فسادات کے پیچھے بھی سیاسی رہنماں کی نفرت انگیز تقاریر کا ہاتھ تھا۔ انوراگ ٹھاکر جیسے مرکزی وزرا سے لے کر یوگی آدتیہ ناتھ جیسے وزرائے اعلی تک، منتخب نمائندوں نے لوگوں سے غداروں کو گولی مارنے اور انتقام لینے کا مطالبہ کیا، یہ بات حیران کن ہے کہ دسمبر 2019  سے اب تک ایک بھی منتخب نمائندے کے خلاف نفرت اور تشدد کی حمایت کرنے کے الزام میں قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ فروری 2020  میںکرناٹک میں ایک وزیر نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو مظاہرین کو گولی مارنے کی اجازت دینے کے لیے ایک قانون پاس کیا جائے۔ یہ ایک ایسا استثنی ہے، جس سے سیاسی قائدین لطف اندوز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اور دیگر غیر ریاستی عناصر مزید تشدد کی تحریک دیتے ہیں۔ یہ بات اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سی ای اے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی)کی مخالفت کرنے والوں کو گولی مارنے یا ان پر حملہ کرنے کے بعد مشتعل افراد سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہیں کہ دے دی آزادی (ہم نے انہیں آزادی دی ہے)۔ دہلی میں فسادات سے ایک دن پہلے، بی جے پی کے ایک رہنما، کپل مشرا نے دہلی پولیس کو الٹی مٹم دیا تھا کہ وہ جعفرآباد میں پرامن مظاہرین کے زیر قبضہ علاقہ خالی کرائیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے مطابق دسمبر 2019  سے سیاسی قائدین کی طرف سے کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر پر بھارتی وزیر اعظم نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم کو آگے بڑھ کر شر پسندوں کی سرکوبی کا اعلان کرتے ہوئے نفرت انگیزی کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔ اس طرح کی تقاریر میں فوری، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی بھی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے حال اور ماضی  میں تشدد جاری رہا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری اس استثنی کو اب ختم ہوناچاہیے۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…