پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

پولیو مہم کو فنڈز کی عدم فراہمی کا سامنا

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) ایک ایسے موقع پر جب آپریشن ضرب عضب اور ہیلتھ ورکرز کی لگن نے ملک میں انسداد پولیو مہم کے لیے صورت حال کو بہتر بنادیا ہے، پروگرام کے راستے رکاوٹ بننے کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیاپیسہ۔
صوبائی صحت کے محکموں نے پلاننگ کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مہم کو مکمل کرنے کے لیے 22 ملین ڈالرز کے مزید فنڈز درکار ہیں جبکہ 2016 تک چلنے والے اس تین سالہ پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے مزید 314 ملین ڈالرز کی رقم کی ضرورت پڑے گی۔
خیال رہے کہ 2014 کے 306 کیسز کے مقابلے میں رواں سال اب تک صرف 25 نئے پولیو کے کیسز ہی سامنے آئے ہیں ۔
نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزارت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر اس موقع پر پیسوں کی وجہ سے یہ پروگرام رک جاتا ہے تو یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلامک ڈیلویلپمنٹ بینک نے پاکستان کو تین سالہ پروگرام کے لیے 327 ملین ڈالر رقم لون پر دی تھی تاہم بل گیٹس اور میلنڈا فانڈیشن نے اس رقم کو لون کے بجائے گرانٹ میں تبدیل کردیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ تین سالوں کے لیےایک نیا پی سی ون تیار کیا جارہا ہے جس کے لیے 314 ملین ڈالر کی رقم کی ضرورت ہوگی۔
اس بار حکومت پاکستان کو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ ملک سے پولیو وائرس ختم کرنے کے لیے پروگرام کی نصف رقم ادا کرے’
انہوں نے بتایا کہ اس بار قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پروگرام کے ماڈل کو تبدیل کرتے ہوئے ایک تیسرے فریق کو شامل کی جائے گا جس پر ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھروسہ کرتے ہیں۔
جمعے کو جاری ہونے والے ایک باضابطہ اعلان کے مطابق ایک اجلاس میں پلاننگ کمیشن نے صوبائی صحت کے محکموں کو 2016-18 کے لیے ایک پی سی ون تیار کرنے کی درخواست دی ہے تاکہ موجودہ تسلسل کو برقرار رکھا جاسکے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے اجلاس کو بتایا کہ 2015 کے لیے فنڈز دستیاب ہیں تاہم ویکسین خریدنے میں تین کا عرصہ درکار ہوتا ہے جس کے لیے اگلے سال کے تین ماہ کے لیے پہلے سے انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بل اور میلنڈا گیٹس فانڈیشن کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں یقین دہانی کروائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…