بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

اسانج کو سزا مت دیں، ہمارے حوالے کر دیں،امریکا کا مطالبہ

datetime 25  فروری‬‮  2020 |

لندن(این این آئی)برطانیہ کی ایک عدالت میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ اس کی مدعی امریکی حکومت ہے جو چاہتی ہے کہ اسانج کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔ اسانج پر جو الزامات لگائے گئے ہیں، امریکہ میں ان کی سزا 175 سال تک قید ہو سکتی ہے۔اسانج کے خلاف مقدمے کی سماعت لندن کی بیل مارش جیل میں ہوئی۔ انہیں گزشتہ سال اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا

اور ستمبر سے وہ اسی جیل میں قید ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اسانج کے خلاف مغربی ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جاسوسی کے الزامات میں مقدمہ درج ہے۔انہوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں سے متعلق فوجی حکام اور سفارت کاروں کے خفیہ پیغامات پر مبنی لاکھوں صفحات کو چوری اور عام کرنے والوں کی مدد کی۔ ان کا اشارہ امریکی انٹیلی جینس اینالسٹ چیلسی میننگ کی طرف تھا۔امریکی انتظامیہ کے وکیل جیمز لوئیس کا کہنا تھا کی اسانج صحافی نہیں بلکہ ایک ہیکر ہیں جنھوں نے خفیہ دستاویزات کو شائع کرنے کی سازش کی۔ ان کے اس اقدام سے سینکڑوں افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔وکی لیکس کے ابتدائی پارٹنر نیویارک ٹائمز، گارڈین اور تین دوسرے اخبارات نے ایک مشترکہ بیان میں ذرائع کے نام شائع کرنے کے اقدام پر تنقید کی تھی۔امریکی پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسانج پر مقدمہ ایسی معلومات شائع کرنے پر نہیں بنایا گیا جو امریکی حکومت عام نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کی بجائے ان پر خفیہ معلومات چرانے کا الزام ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اسانج کے بارے میں فیصلہ کرنا برطانوی عدالت کا کام نہیں بلکہ وہ صرف انہیں امریکہ کے حوالے کر دے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ الزامات ثابت ہونے پر اسانج کو پورے 175 سال کی سزا نہیں ملے گی بلکہ 48 سے 63 ماہ کی قید ہو سکتی ہے۔اسانج کے وکلا نے

موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور انہیں امریکہ میں منصفانہ سماعت کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے خفیہ دستاویزات حاصل کرنے میں چیلنسی میننگ کی مدد نہیں کی تھی۔مقدمے کی سماعت کے موقع پر جیل کے باہر اسانج کے حامی کافی تعداد میں موجود تھے اور ان کا شور و غل عدالت تک پہنچ رہا تھا۔ ایک موقع پر جولین اسانج نے عدالت سے کہا کہ وہ اس شور کی وجہ سے عدالت کی کارروائی پر دھیان نہیں دے پا رہے۔اس مقدمے کی سماعت دو مرحلوں میں ہو گی۔ پہلے مرحلے میں قانونی دلائل دیے جائیں گے جب کہ مئی میں دوسرے مرحلے میں گواہ اور شواہد پیش کیے جائیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کئی ماہ بلکہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…