جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا کے بعد جون میں دنیا پر کون سی خطرناک چیز حملہ آور ہونیوالی ہے ؟ماہرین نے خبر دار کردیا

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹڈی دل سے مشرقی افریقا اور مغربی ایشیا میں تباہ کن اثرات سامنے آرہے ہیں لہٰذا عالمی برادری اس معاملے میں مدد کیلئے آگے آئے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے اپنے بیان میں کہا کہ ایتھوپیا، صومالیہ، کینیا، تنزانیہ اور یوگنڈا ٹڈی کی وجہ سے بْری طرح متاثر ہیں۔

جو اس وقت تقریباً ایک کروڑ 13 لاکھ افراد کی غذائی اجناس اور ذریعہ معاش کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔پاکستان نے بھی فروری کے شروع میں اسی مسئلے کی وجہ سے قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ ٹڈی دل بھارتی سرحد سے داخل ہوئی ہے جس نے وہاں پر بھی کئی سو ایکڑ کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے۔ماہرین نے رواں سال جون میں اس سے بھی بڑے حملے کی پیشن گوئی کی ہے، مشرقی افریقا کے حصّوں میں کسانوں کو اس موسم میں مزید تباہی کا سامنا ہوگا۔ٹڈی کا تعلق جھینگر کے خاندان سے ہے جو کہ زیادہ تر تنہا ہی رہتی ہیں تاہم فصلوں کے تیار ہونے کے موسم میں یہ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں اور افزائش نسل کے لیے متحرک ہوجاتے ہیں۔یہ ٹڈیاں پتوں، پھول، پھل، بیچ کے ساتھ ساتھ درختوں کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں۔فی مربع کلومیٹر کے ایک دل میں تقریباً 4 کروڑ تک ٹڈیاں موجود ہوسکتی ہیں اور اتنی خوراک کھاسکتی ہیں جتنی 35 ہزار افراد مجموعی طور پر ایک دن میں استعمال کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…