پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

گرمیوں میں پیدا ہونے والے بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کتنے ذہین ہوتے ہیں؟ماہرین کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 3  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)اگر آپ کے بچے گرمیوں کے دنوں میں پیدا ہوئے ہیں تو جان لیں کہ ان میں پڑھنے لکھنے سے متعلق ایک مخصوص کمی پیدا ہوسکتی ہے۔بچوں کی بہتر تعلیم تب ہی ممکن ہوسکتی ہے جب والدین ان پر سخت محنت کریں تاہم اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بچے کا اپنا دماغ بھی تیزی کے ساتھ چیزیں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ماہرین کے مطابق بچے کے پیدائش کا ماہ یا

سیزن اس کی ذہنی صلاحتیوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ایسے بچے جو گرمیوں کے موسم میں پیدا ہوئے ہیں وہ خزاں کے موسم میں پیدا ہونے والے بچوں سے مقابلے میں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے ابتدائی دنوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم میں پیدا ہونے والے تقریبا ایک چوتھائی بچے 5 سال کی عمر تک ریاضی کو سمجھنے میں پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ماہرین نے بتایاکہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ بچے کی پیدائش کا مہینہ اس کے تعلیمی گریڈز کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔برطانیہ کے محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں صرف انگلینڈ میں ہی مئی سے اگست کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کا اساتذہ کی تشخیص کے مطابق ڈیولپمنٹ کی ایک مخصوص سطح تک پہنچنے والے بچوں کی شرح 62 فیصد تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ 38 فیصد بچے ڈیولپمنٹ کی اس سطح کو چھونے میں بھی ناکام رہے۔ڈیولپمنٹ کی اس خاص سطح کو اساتذہ نے امید کے مطابق بچوں کی بات چیت کی صلاحیت ان کی زبان میں مہارت، جسمانی نشونما، ذاتی، سماجی اور جذباتی نشونما، قابلیت اور ریاضی سے ترتیب دیا ہے۔اس کے علاوہ ایسے بچے جو ستمبر سے دسمبر کے درمیان میں پیدا ہوئے ان میں ڈیولپمنٹ کی اس سطح تک پہنچنے والے بچوں کی تعداد 81 فیصد رہی۔تعلیمی نگرانی کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے ڈائریکٹر کوالٹی امپروومنٹ مائیکل فریسٹن کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں پیدا ہونے والے بچوں اور ان کے ہم خیال بچوں کے درمیان پڑھنے لکھنے سے متعلق حصول کا فرق حقیقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد ہیں جن سے یہ ظاہرہ ہوتا کہ یہ بچوں کی پیدائش کا مہینہ ان کی پڑھائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔تاہم واضح رہے کہ اس رپورٹ میں بچوں کے بڑے ہوکر کم ذہین رہنے سے متعلق نہیں بتایا گیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…