جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پمز سانحہ، ماں کی جانب سے لاوارث چھوڑ دیئے گئے ننھے علی کی تدفین کر دی گئی

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پمز ہسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی نے جہاں متعدد نومولود بچوں کی جانیں لیں،

وہیں ایک ایسے بے سہارا بچے کی زندگی بھی ختم ہوگئی جسے پیدائش کے بعد ہی اپنوں نے ہسپتال میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

ننھا علی تقریباً دو ماہ قبل پمز ہسپتال میں پیدا ہوا تھا، تاہم اس کی والدہ اور نانی اسے وہیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ کئی دن تک بچے کی شناخت بھی معلوم نہ ہوسکی اور ہسپتال میں اس کے ہاتھ پر صرف ’’بے بی ایچ‘‘ کی شناخت موجود تھی۔

ہسپتال کی نرسوں نے اس بے نام بچے کو محبت سے علی کا نام دیا اور اپنی نگرانی میں اس کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ طبیعت خراب ہونے پر اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملہ اس کے علاج اور نگہداشت میں مصروف رہا۔

تاہم 26 اگست کو پمز میں لگنے والی آگ کے المناک واقعے کے دوران ننھا علی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ معصوم بچے کی موت کے بعد بھی کوئی ایسا فرد سامنے نہیں آیا جو اس کی میت وصول کرتا۔

مردہ خانے میں موجود ننھے علی کا جسد اپنے کسی وارث کا منتظر رہا، لیکن اس کی ماں یا خاندان کا کوئی فرد اسے لینے واپس نہیں آیا۔ بعد ازاں پمز انتظامیہ نے بچے کو لاوارث قرار دیتے ہوئے اس کی میت ایدھی سینٹر کے حوالے کردی۔

ایدھی سینٹر نے اس بے سہارا بچے کی آخری ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسے پورے احترام کے ساتھ سپردِ خاک کردیا۔

ننھا علی اپنی مختصر زندگی میں شناخت اور اپنوں کی محبت سے محروم رہا، لیکن زندگی کے آخری سفر میں اسے اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ جن لوگوں نے اسے دنیا میں لاکر بے سہارا کردیا تھا، ان کی غیر موجودگی میں ایدھی سینٹر نے اس معصوم کے لیے آخری فرض ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…