جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

مجموعی قرضوں کے حجم میں 11.61 ٹریلین روپے کا اضافہ، دھماکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت خزانہ نے جولائی2018ء سے ستمبر2019ء تک کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں کے حجم میں ہونے والے11.61 ٹریلین روپے کے اضافہ کی تفصیلات جاری کر دیں جس کمے مطابق 4.11 ٹریلین روپے قرض(کل اضافے کا35 فیصد) مالی خسارہ پورا کرنے کے حاصل کیا گیا،3.54 ٹریلین روپے قرض (کل اضافے کا31 فیصد) روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھا

جو پچھلی حکومت کی غلط شرح مبادلہ اور ناقص صنعتی او تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا جس سے بھاری اور ناقابل برداشت حد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہو گیا جس پر قابو پانے کے لیے کرنسی کی شرح تبادلہ میں فوری کمی لانا پڑی۔وزار ت خزانہ کے مطابق 3.13 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا 27 فیصد) کا اضافہ حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے مستقبل میں قرض نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کیش بیلنس کی سطح بڑھانے سے ہوا ہے جو مشکل اورغیر متوقع حالات سے نبٹنے کے لیے محفوظ کی گئی ہے تاہم اس کا مجموعی قرض پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس قرض کی تلافی یا خلا پر کرنے کے لیے لکوئیڈ اثاثہ جات دستیاب ہیں۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.47 ٹریلین روپے قرض(4 فیصد) کاا ضافہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے حاصل کردہ قرضے کی وجہ سے ہواہے۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.08 ٹریلین روپے قرض(منفی01 فیصد) کموڈٹی آپریشن کی مد میں قرض کی واپسی کے لیے لیا گیا جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔وزار ت خزانہ کے مطابق 0.25 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا2 فیصد) کا اضافہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے جاری کردہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز(پی آئی بی) کی فیس ویلیو جو کہ قرضے کے اندراج کے لیے استعمال ہوتی ہے اور حاصل شدہ ویلیو جس کا بجٹ وصولی کے طور پر اندراج ہوتا ہے،میں فرق کی وجہ سے ہے۔

وزار ت خزانہ کے مطابق 0.8 ٹریلین روپے قرض(کل اضافہ کا2 فیصد) کا ضافہ پاکستان کے نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کے حجم میں ہوا جس سے ملک کے نجی شعبے کی اپنی کاروباری سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے اشتراک و روابط کی عکاسی ہوتی ہے تاہم نجی شعبے کا قرضہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی یہ غیر ملکی زر مبادلہ پر اپنے نتائج کے اعتبار سے مجموعی قرضوں اور ادائیگیوں کے حجم میں شامل ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…