بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

445کلو وزی خان بابا کو دلہن کی تلاش وزن سے لڑکی کی ہلاکت کا خدشہ ، جانتے ہیں پاکستانی ویٹ لفٹر نے لڑکی کیلئے کیا شرط رکھ دی

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی ہیوی ویٹ لفٹر445کلو وزنی خان بابا کی شادی کیلئے لڑکی تلاش جاری ۔ تفصیلات کےک مطابق پاکستان ہیوی ویٹ لفٹر خان بابا نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میری ہونے والی اہلیہ کا وزن کم سے کم 101کلو ہونا چاہیے تا کہ خاتون کی جان کسی خطرے میں نہ پڑے ۔ خان بابا سے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہ اب تک 300سے زائد خواتین کو صرف ان کی

وزن کی کمی کی وجہ سے رد کر چکے ہیں ۔ چھ فٹ 6انچ قد رکھنے والے خان بابا نے بتایا ہے کہ میرے گھر آنے والی خاتون کو 10ہزار کیلریز کا روزانہ کھانا بنانا پڑے گا جس میں ہر صبح 36انڈے بھی شامل ہونگے ، خاتون کا کم سے کم قد 6فٹ اور 4انچ ہونا لازمی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میرے گھر والے میری شادی کرانا چاہتے ہیںتاکہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کیساتھ کھیل سکیں ۔ جبکہ میری مرضی کے مطابق خاتون نہ ملنے پر ابھی تک کنوارہ ہوں ۔ واضح رہے خان بابا مردان کا رہائشی ہے.پاکستانی ویٹ لفٹر خان بابا کو ایک انتہائی طاقتور ویٹ لفٹر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بھارتی گریٹ کالی کو کھلا چیلنج بھی کیا ہوا کہ وہ ان سے مقابلہ کرے جبکہ گریٹ کالی نے خان بابا کی تعریف کرتے ہوئے مقابلہ کی کوئی رضامندی کا اظہار نہیں کیا ۔ پاکستانی ویٹ لفٹر خان بابا کو ایک انتہائی طاقتور ویٹ لفٹر سمجھا جاتا ہےاور آئے دن سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…