پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

دو ہزار ارب پتی دنیا کی 60 فی صد آبادی سے زیادہ دولت مند، دنیا بھر کیخواتین کو مجموعی طور پرکتنے گھنٹے یومیہ بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے؟جانئے

datetime 20  جنوری‬‮  2020 |

ڈیوس (این این آئی)غربت میں کمی کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم آکسفیم نے کہا ہے کہ دنیا کے 2153 ارب پتی افراد کے پاس موجود دولت دنیا کی 60 فی صد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق آکسفیم کی عالمی عدم مساوات سے متعلق سالانہ رپورٹ اکنامک فورم کے افتتاح کے موقع پر جاری کی گئی۔برطانوی تنظیم آکسفیم نے ایک رپورٹ میں کہاکہ دنیا کے

ارب پتی افراد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دگنا اضافہ ہوگیا ہے،آکسفیم کے مطابق لڑکیوں اور خواتین کو سب سے زیادہ غربت کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین کو مجموعی طور پر 12 ارب 50 کروڑ گھنٹے یومیہ بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان گھنٹوں کا معاوضہ 10 ہزار 800 ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں 42 فی صد خواتین بے روزگار ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے وقت میسر نہیں ہے اور ان کی مالی حیثیت بھی اچھی نہیں۔پورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے صرف ایک فی صد امیر ترین افراد اپنی دولت پر 10 سال تک صرف اعشاریہ پانچ فی صد اضافی ٹیکس ادا کریں تو اس سے بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی کمی دور ہو سکتی ہے۔آکسفیم کے بھارتی سربراہ امیتابھ بہار کا کہنا تھا کہ ہماری کمزور معیشتیں عام آدمی اور خواتین کے خرچوں پر ارب پتی افراد اور بڑے تاجروں کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ اس میں حیرت کی بات کوئی نہیں کہ لوگ ارب پتیوں کی موجودگی کے جواز سے متعلق سوالات کر رہے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں آکسفیم کے تحت جاری سالانہ اکنامک فورم میں موجود امتیابھ بہار نے مزید کہا کہ عدم مساوات کے خاتمے کے بغیر امارت اور غربت کی درمیانی خلیج کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔امیتابھ کا کہنا تھا کہ دنیا کے 22 امیر ترین مردوں کے پاس افریقہ کی تمام خواتین سے زیادہ دولت ہے۔انہوں نے کہا کہ غربت کا سب سے زیادہ بوجھ لڑکیوں اور عورتوں پر پڑتا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…