اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب ، بادام کی سفیدی طائف کے جنوبی کھیتوں کی زینت بن گئی

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب میں ان دنوں طائف شہر کے جنوب میں واقع کھیتوں میں بادام کے پودوں کی سفیدی چھائی ہوئی ہے۔ فصلِ ربیع کی آمد قریب ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تجربات اور تحقیقی مطالعوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ طائف کے جنوب میں واقع علاقے بادام کے درخت کے لیے مناسب جگہ ہے۔ یہ دوسری جگہ بھی کاشت کیا جا سکتا ہے

تاہم وہاں اس کے پھل کی کوالٹی مذکورہ علاقے جیسے نہیں ہو گی۔اس سلسلے میں ایک کاشت کار عبداللطیف المالیی نے بتایا کہ بادام کی کاشت کے ابتدائی مرحلے کا آغاز فصل ربیع کی آمد کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابتدا اس کے پھول کا رنگ سفید ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ اپنا رنگ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ درمیان میں اس کا رنگ سبز بھی ہوتا ہے اور آخر کار تقریبا ایک ماہ بعد سْرمئی رنگ کے ساتھ اپنے اختتام پر پہنچتا ہے۔ایک اور کاشت کار سعد الحارثی نے بتایا کہ بعض مرتبہ لوگ بادام کے مکمل طور پر پکنے سے قبل اسے کھانا پسند کرتے ہیں ، اس کو قضیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ علاقے کے بہت سے لوگ بادام کوعرب ضیافت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس دوران میزبان خود بادام کو توڑ کر اس کا پھل پیش کرتا ہے جو کہ مہمان کا اکرام اور اس کو بلند مرتبہ دینا شمار کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…