بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

ہم غریبوں کی خیرات تک نہیں چھوڑتے، قدرت ہمیں اس اخلاقیات کے ساتھ جوتے نہیں مارے گی تو کیا کرے گی؟ امریکی وزیر خارجہ کے بعد وزیر دفاع نے بھی آج پاکستان کے آرمی چیف سے رابطہ کر لیا، امریکہ بار بار ہم سے رابطہ کیوں کر رہا ہے؟ جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

حکومت نے جولائی 2008ء میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے انتہائی غریب لوگوں کی مدد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا‘ حکومت ان لوگوں کو سہ ماہی پانچ ہزار روپے امداد دیتی تھی‘ آج حکومت نے اس پروگرام میں گھپلوں کے انتہائی افسوس ناک اعداد و شمار جاری کیے، پتا چلا گریڈ 17 سے لے کر گریڈ 21 تک کے دو ہزار 534 سرکاری افسر بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خیرات وصول کرتے رہے،

حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق ان میں گریڈ 17 کے 1240 افسر،گریڈ 18 کے 342 افسر، گریڈ 19 کے 429 افسر، گریڈ 20 کے 59 افسر اور گریڈ 21 کے تین اعلیٰ افسر شامل ہیں، یہ لوگ اپنی بیگمات اور خاندان کے لوگوں کے نام پر خیرات وصول کرتے رہے، آپ ملک کا اخلاقی دیوالیہ پن ملاحظہ کیجیے‘ ہمارے گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے اعلیٰ افسر 10 سال خود کو مسکین ثابت کر کے سرکاری خیرات کھا تے رہے اور ان کو شرم تک نہیں آئی، ہم غریبوں کی خیرات تک نہیں چھوڑتے لیکن ہم اس اخلاقیات کے ساتھ امریکہ، اسرائیل اور یورپ کا مقابلہ بھی کرنا چاہتے ہیں، ہم پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا بھی لہرانا چاہتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں ہم معتبر ترین‘ مقدس ترین اور ایمان دار ترین قوم ہیں، قدرت ہمیں اس اخلاقیات کے ساتھ جوتے نہیں مارے گی تو کیا کرے گی؟ کیا ہم مزید ذلت کے حق دار نہیں ہیں‘ آپ چند لمحوں کے لئے یہ ضرور سوچیے گا۔ ایران نے آج صبح ساڑھے پانچ بجے عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پربائیس میزائل داغ کر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لے لیا، آیت اللہ خامنہ ای نے حملے کے بعد کہا، یہ امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہے اور یہ جب تک خطے سے نکل نہیں جاتا ہماری طرف سے کارروائیاں جاری رہیں گی، امریکی وزیر خارجہ کے بعد وزیر دفاع نے بھی آج پاکستان کے آرمی چیف سے رابطہ کر لیا، امریکا بار بار ہم سے کیوں رابطہ کر رہا ہے، آج سینٹ نے بھی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…