جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی وجہ سے 8 نئی جیلیں بنانے کا اعلان کردیا گیا

datetime 26  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)جیل اصلاحات کے حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کی مشترکہ سربراہی میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی سیکریٹری داخلہ محمد عثمان چاچڑ، سیکریٹری امپلیمینٹیشن ریاض احمد صدیقی، پراسیکیوٹر جنرل سندھ فیض شاہ، سینیئر ایڈوائیز محتسب حافظ احسان، آئی جی جیل نصرت منگھن سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سیکریٹری داخلا اور آئی جی جیلز نے سندھ پرزنس اینڈ کریکشن ایکٹ 2019 اور صوبے کے جیلوں کی صورتحال کے متعلق آگاہی دیتے ہوئے بتایا کے اس وقت صوبے کے جیلوں کی گنجائش 13038 جب کے 17239 قیدی ہیں۔ مختلف اضلاع میں جیل نا ہونے کی وجہ سے موجودہ جیلوں میں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ انہونے بتایا کے اس وقت ٹھٹہ، نوابشاہ اور ملیر کے جیل میں مزید بیرک بنائے جارہے ہیں جس سے بھی گنجائش بڑھ جائے گی۔ انہونے مزید بتایا کے قیدیوں کے فلاح اور اصلاحات کے لئے کئی کام کئے جارہے ہیں جس میں 4623 قیدیوں کو مختلف ووکیشنل ٹریننگ جس میں کمپیوٹر، انگلش لینگویج کورس، بیوٹیشن کورس، کارپینٹری، موٹر وائنڈنگ، الیکٹریشن، ہینڈی کرافٹس، ایمبرائیڈری اور دیگر کورس کروائی جارہے ہیں۔ آئی جی جیل نے مزید بتایا کے صوبے کی جیلوں میں 6886 قیدیوں کو پرائمری سے لے کر ماسٹرز تک کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ انہونے مزید بتایا کے صوبے کے تمام جیلوں میں پی ایم ایس سافٹویئر لگایا ہے جس کے لئے 200 اہلکاروں کی تربیت بھی مکمل کرلی گئی ہے۔ انہونے مزید بتایا کے سندھ حکومت نے 33 قیدیوں کی دیت، دمن اور عرش کی رقم ادا کی ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں جیل ہونا چاہئے قیدیوں کی حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ انہونے کہا کے ٹھٹہ، نوابشاہ، قمبر شہداد، مٹھی، کندھ کوٹ، جامشورو، ملیر اور ضلعی ویسٹ میں نئی جیلیں بنائی جائیں گی۔

انہونے سیکریٹری داخلا کو ضلعی ملیر کے 100 اور ویسٹ کے لئے 200 ایکڑ زمین کے لئے سمری بنائی کی ہدایت۔ ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کے صوبے کے جیلوں میں نئیں آنے والے قیدیوں کی میڈیکل سکریننگ کی جائے۔ ممتاز علی شاہ نے کہا کے وفاقی محتسب کی تمام سفارشات پر عمل کیا جا رہا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کے لئے اصلاحات لائے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے کہا کے وفاقی محتسب اس وقت تک جیل اصلاحات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 4 روپورٹ جمع کروائی ہیں اور جنوری کے پہلے ہفتے میں بھی ایک رپورٹ جمع کروائی جائے گی۔ انہونے کہا کے سندھ صوبے میں جیل اصلاحات کے حوالے سے بہترین کام کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…