جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دوران حمل ماں کا موٹاپا بچے کی نشوونما کیلئے نقصان دہ قرار، تحقیق میں ماہرین کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)حمل کے دوران ماں کا موٹاپا آنے والے برسوں میں بچوں کی نشوونما پر طویل المعیاد اثرات مرتب کرسکتا ہے۔یہ بات امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوران حمل ماں کا موٹاپا آنے والے برسوں میں بچوں میں اسکول سے قبل ذہنی نشوونما اور لڑکوں میں ذہانت کی سطح یا آئی کیو میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

جریدے بی ایم سی پیڈیاٹرکس میں شائع تحقیق میں 368 مائوں اور ان کے بچوں کا جائزہ لیا گیا جو یکساں معاشی حالات اور علاقوں میں مقیم تھے۔خواتین کا جائزہ دوران حمل اور پھر اس وقت لیا گیا جب بچوں کی عمر 3 اور 7 سال ہوگئی،جب بچوں کی عمر 3 سال تھی تو سائنسدانوں نے بچوں کی موٹر اسکلز کی پیمائش کی اور دریافت یا کہ دوران حمل موٹاپے اور لڑکوں میں موٹر اسکلز متاثر ہونے کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے،اسی طرح 7 سال کی عمر میں دوبارہ جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ جن لڑکوں کی مائیں دوران حمل زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کی شکار ہوتی ہیں، وہ آئی کیو ٹیسٹ میں دیگر لڑکوں کے مقابلے میں 5 یا اس سے زیادہ پوائنٹس پیچھے رہتے ہیں، مگر لڑکیوں میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔محققین کے مطابق مختلف عمروں میں نشوونما کا تجزیہ کرنے پر ہم نے یہ اثرات دریافت کیے جو کہ حیران کن ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اثرات وقت کے ساتھ برقرار رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج کا مطلب کسی کو شرمندہ کرنا یا ڈرانا نہیں، ہم تو بس یہ سمجھنے کا آغاز کررہے ہیں کہ دوران حمل مائوں کے وزن اور ان کے بچوں کی صحت کے درمیان کس طرح کا تعلق موجود ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…