جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

نئے چیف جسٹس گلزار احمد کا مختصر تعارف اور کیریئر پر ایک نظر انہوں نے ن لیگ کے کس سینئر رہنما کا نااہل قرار دیا تھا؟

datetime 21  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام نور محمد تھا جن کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں ہوتا تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان اسکول سے حاصل کرنے کے بع نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔آپ نے 18 جنوری 1986 کو خود کو بحیثیت ایڈووکیٹ انرول کروایا

جبکہ 4 اپریل 1988 کو آپ نے ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر خود کو انرول کروایا۔آپ نے 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ ا?ف پاکستان میں خود کو ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول کروایا۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔2002 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہونے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل تھے۔انہوں نے اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کورپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان میں ایک بھی شکایت موجود نہیں۔علاوہ ازیں جسٹس گلزار احمد انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، اقرا یونیورسٹی، احمد ای ایچ، جعفر فاو?نڈیشن اور آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر جبکہ انرولمنٹ کمیٹی آف سندھ بار کونسل کراچی کے چیئرمین بھی رہے۔وہ سندھ ہائی کورٹ کی ڈیوپلمنٹ کمیٹی اینڈ آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔جسٹس گلزار احمد اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر کے ساتھ پاناما بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے 20 اپریل 2017 کو پاناما کیس کی آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا۔

اس کے علاوہ آپ نے کراچی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کیس اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کا فیصلے سنایا، ساتھ ہی عسکری اداروں کی جانب سے تجاوزات اور کمرشل سرگرمیوں کے کیسز کا فیصلہ بھی سنایا، ان کے فیصلے کے بعد شہر میں 500 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد نے توہین عدالت کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کو سزا سنائی تھی اور نااہل قرار

دیا تھا۔علاوہ ازیں انہوں نے ڈیفنس ہاو?سنگ اتھارٹی، تھرکول منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بارش کے دوران کے الیکٹرک کی لاپروائی کے باعث ہلاکتوں اور امل قتل کیسز کی سماعت بھی کی اور ان کی جانب سے سخت ریمارکس دیکھنے میں آئے۔یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد 20 دسمبر 2019 کو سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں ان کے بیرون ملک دوروں کے دوران متعدد مرتبہ قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…