جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مجھے ذاتی عداوت کی بنیاد پر ان لوگوں نے ہدف بنایا؟قانون کی بالادستی کا خیال نہیں رکھا گیا، چیف جسٹس بارے بھی پرویز مشرف اپنے ویڈیو بیان میں بول پڑے

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دیڈیو بیان میں کہا ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ مشکوک، قانون کی بالا دستی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ چیف جسٹس نے فیصلے کو جلد یقینی بنانے کا کہہ کر عزائم ظاہر کر دئیے تھے۔ دفاع کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کو بیان ریکارڈ کروانے کی پیش کش بھی مسترد کر دی گئی۔

پاکستانی عوام اور فورسز کا یاد رکھنے پر شکرگزار ہوں یہ تمغہ اپنے ساتھ قبر میں لے کر جاؤں گا۔ بدھ کے روز جاری ویڈیو پیغام میں سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے خصوصی عدالت کا فیصلہ ٹی وی پر سنا۔ کیس میں صرف ایک فرد کو ٹارگٹ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی عداوت کی بنیاد پر ان لوگوں نے ہدف بنایا جو اونچے عہدوں پر اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہیں اور واقعات کو اپنی منشا کے مطابق ڈھالنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میرے دور حکومت میں فوائد اٹھانیوالے جج میرے خلاف فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں۔ ملزم اور وکیل دونوں کو دفاع کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کو بیان ریکارڈ کروانے کی میری پیشکش بھی مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت اس کیس کو سننا ضروری ہی نہیں تھا میری نظر میں فیصلہ مشکوک ہے۔ قانون کی بالا دستی کا خیال نہیں رکھا گیاایسے فیصلے کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ خصوسی عدالت کا ایسا فیصلہ پہلی بار سنا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستانی عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ عدلیہ قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان قانونی تیم سے مشاورت کے بعد کروں گا۔ پاکستانی عوام اور فورسز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یاد رکھا۔ یہ میرے لئے سب سے بڑا تمغہ ہے اسے اپنے ساتھ قبر میں لے کر جاؤں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…