دمشق (نیوزڈیسک )شام کے کرد جنگجوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترکی کی سرحد سے ملحق قصبے تل ابیض قصبے پر قبضہ کر لیا ہے اور جہادی گروپ کے لیے رسد کی فراہمی کا اہم راستہ بھی منقطع کرنے کے لیے اقدامات کیے حا رہے ہیں۔کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی)کی جانب سے کمک روانہ کی جا رہی ہے تاکہ دولت اسلامیہ کے ہیڈکوارٹر رقہ کے جنوب واقع شاہراہ پر قبضہ کیا جا سکے۔تل ابیض کی جنگ کی وجہ سے کئی درجن افراد خاردار تاروں سے گزر کر ترکی میں داخل ہوئے۔کرد جنگجو گروپ وائی پی جی کی پیش قدمی میں امریکی فضائی حملوں اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے چند باغی گروپوں کا تعاون بھی شامل رہا۔تل ابیض پر قبضے کے بعد کرد اب ترکی کی سرحد سے ملحق اپنے زیر انتظام دوسرے علاقوں سے رابطے میں ہوں گے جو کہ مشرق میں عراق سے لے کر مغرب میں کوبانی تک پھیلا ہوا ہے۔تل ابیض میں موجود ایک کردی کمانڈر حسین وشر نے بتایا پورا شہر ہمارے قبضے میں ہے اور اب وہاں جنگ نہیں ہو رہی ہے۔انھوں نے کہا: ہمارے لوگوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ہم شمالی شام سے دولت اسلامیہ کا خاتمہ کرنے والے ہیں۔وائی پی جی کی مشرق اور مغرب سے تل ابیض کی جانب پیش قدمی اتوار کو ہوئی اور دن بھر کی جنگ کے بعد انھوں نے کئی دیہات پر قبضہ کر لیا۔ایک وائی پی جی کمانڈر نے بتایا کہ پیر کی سہ پہر کو مشرق و مغرب کی فوجی یونٹ رقہ کی سڑک سے تل ابیض کے جنوب میں ملیں۔شامی باغی گروپ برکن الفرات جو وائی پی جی کے ہمراہ جنگ میں شامل تھی نے کہا کہ مشرقی اور جنوبی تل ابیض میں شدید جنگ ہوئی ہے۔کرد حملوں اور امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے 16 ہزار شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی جانے پر مجبور ہونا پڑا اور یہ پناہ گزین اکاکیلے کی سرحد پر اتوار کو پھنسے رہے کیونکہ ترکی نے اپنی سرحد بند کر رکھی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ وہ سرحد صرف انسانی سانحے کے پیش نظر ہی کھولے گی۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کرد جنگجوں نے دولت اسلامیہ کو شکست دی ہے لیکن اگر وہ تل ابیض پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتے ہیں تو یہ دولت اسلامیہ کے لیے اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا ہوگا۔کرد حملوں اور امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے 16 ہزار شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی جانے پر مجبور ہونا پڑا اور یہ پناہ گزین اکاکیلے کی سرحد پر اتوار کو پھنسے رہے کیونکہ ترکی نے اپنی سرحد بند کر رکھی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ وہ سرحد صرف انسانی سانحے کے پیش نظر ہی کھولے گی۔اسی دوران کئی درجن افراد سرحد کی باڑ کاٹ کر ترکی میں داخل ہو گئے جبکہ بعد میں سرحد کھول دی گئی اور مقامی حکام نے بتایا کہ انقرہ سے سرحد دوبارہ کھولنے کا حکم ہوا ہے۔ترکی نے پہلے تو سرحد بند رکھی پھر انقرہ کے حکم پر پناہ گزینوں کے لیے سرحد کھول دی گئی۔ترکی کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ پیر کو تقریبا تین ہزار پناہ گزین سرحد پار کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔دولت اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے اہم امریکی اہلکار بریٹ میگر نے کہا ہے کہ کرد دولت اسلامیہ کو واقعتا شکست دے رہے ہیں۔لیکن شام کی 15 باغی تنظیموں کے ایک گروپ نے کرد جنگجوں پر نسلی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سب تل ابیض اور اس کے نواحی علاقوں میں عرب اور ترک نڑاد باشندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔وائی پی جی کے ترجمان ریدر خلیل نے نے ان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔دوسری طرف رضاکاروں اور سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ پیر کو ہونے والے ایک علیحدہ واقعے میں باغیوں نے حلب میں سرکار کے زیر انتظام ایک ضلعے پر حملہ کیا جس میں کم از کم ایک درجن افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
عید الفطر کے بعد دفاتر کے نئے اوقاتِ کار جاری
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
شناختی کارڈ بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان کر دی گئی
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی



















































