جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حکومت میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ، 19 اراکین اسمبلی کی بغاوت، مستعفی ہونے کا فیصلہ

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے 19اراکین اسمبلی نے مستعفی ہونے پر غور و فکر شروع کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے 12اراکین قومی اسمبلی اور 7اراکین صوبائی اسمبلی وفاقی وزیر علی زیدی کے رویے کی وجہ سے شدید ناراض ، اسمبلیوں سے بائیکاٹ کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ ہم نے

چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بڑی چیزوں کا نقصان اٹھایا، کراچی جیسی کوسٹل بیلٹ جس ملک کے پاس موجود ہو وہ ملک قرضے لینے والا نہیں دینے والا ہوتا ہے۔کراچی میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ آئی ایم او نیشنل سیمینار ہانگ کانگ کنونشن کا انعقاد شپ بریکنگ انڈسٹری اور شپ انڈسٹری کے لیے اہم ہے۔ ہم شپ بریکنگ انڈسٹری میں پہلے نمبر پر تھے اب چوتھے نمبر پر چلے گئے ہیں۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بڑی چیزوں کا نقصان اٹھایا، بنگلہ دیش میں کپاس پیدا نہیں ہوتی لیکن وہ ٹیکسٹائل میں کئی گنا زیادہ برآمدات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کنونشن پر اگر ابھی دستخط ہوگئے تو ہم شپ بریکنگ انڈسٹری میں 4 نمبر سے بھی مزید نیچے گر جائیں گے۔ یہ کنونشن شپ بریکنگ انڈسٹری کے لیے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد کا ہے۔ کچھ برس پہلے تحفظ پر عملدرآمد نہ کرنے سے گڈانی پر شپ بریکنگ میں کئی قیمتی انسانی جانوں کا نقصان اٹھایا۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ کراچی جیسی کوسٹل بیلٹ جس ملک کے پاس موجود ہو وہ ملک قرضے لینے والا نہیں دینے والا ہوتا ہے، شپ بریکنگ انڈسٹری میں بہتری لانا ایک چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی چیلنج سے گبھرانا نہیں ہے۔ پہلے ادوار میں نئے ڈریجر خریدے گئے

جو کبھی استعمال نہیں کیے گئے۔ نیب میں ان کی انکوائری بھیج چکا ہوں، بغیر استعمال ہوئے کئی بار ان کے پرزے امپورٹ کروائے گئے۔علی زیدی کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہر جگہ پر ریگولیشن لانے کی ضرورت ہے، شپ بریکنگ اور میری ٹائم میں ریگولیشن لا رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہیں، کسی ماں باپ کو اچھا نہیں لگتا جب بچے کو انجکشن لگتا ہے۔ ہمیں بچے کے مستقبل کے لیے یہ

تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کی استعداد کار بڑھانا ہوگی، 10 سال میں پہلی بار فشریز کے ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی گئی۔ ماضی میں ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی جاتی رہی۔ ماہی گیری کے شعبے میں 2 ارب ڈالر تک برآمدات بڑھائی جاسکتی ہے۔ میری ٹائم شعبے میں کئی اصلاحات لا رہے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…