بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی متنازع بل، بھارت کے سینئر پولیس آفیسر نے احتجاجاً اہم قدم اٹھاتے ہوئے سول نافرمانی کا اعلان کر دیا، اس بل کا مقصد کیا ہے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 12  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مہاراشٹرا میں تعینات بھارتی پولیس سروس کے سینئر افسر نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا،گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا تھا

جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیے جا رہے ہیں جب کہ امریکا سمیت دنیا بھر سے بھی اس کے خلاف آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں تعینات پولیس سروس کے سینئر افسر عبدالرحمن احتجاجاً مستعفی ہو گئے ہیں۔مستعفی ہونے سے متعلق بھارتی پولیس افسر عبدالرحمن نے کہا کہ بل کی مذمت کرتا ہوں، اس لئے سول نافرمانی کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں میں خوف پھیلانا اور قوم کو تقسیم کرنا ہے، شہریت ترمیمی بل آئین کی بنیادی خصوصیات کے منافی ہے۔انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں غلط حقائق اور گمراہ کن معلومات پیش کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…