جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

2019 کے دوارن دنیا بھر میں کم از کم کتنے صحافیوں کو حراست میں لیاگیا؟کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کی رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 12  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )2019 میں دنیا بھر میں کم از کم 250 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کم از کم 250 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے باعث جیل میں ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 255 تھی۔

سی پی جے نے جب سے صحافیوں کی حراست کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے اس وقت سے سب سے زیادہ صحافیوں کو سال 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا جن کی تعداد 273 تھی، جس میں چین، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے بعد سب سے برے جیلر ایریٹیریا، ویت نام اور ایران ہیں۔سروے رپورٹ کے مطابق چین نے پریس پر سختیوں میں اضافہ جبکہ ترکی نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کردیا ہے لہٰذاپنے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا بھر میں صحافیوں کو حراست میں لینے کی تعداد ریکارڈ کے قریب قریب ہے جبکہ رہا کیے جانے والے صحافی مقدمے یا اپیل کے منتظر ہیں۔مشرق وسطی میں آمریت، عدم استحکام اور احتجاج کی وجہ سے زیادہ تر صحافی گرفتار ہوئے بالخصوص سعودی عرب میں جو دنیا کے تیسرے بدترین جیلر مصر کے برابر آگیا ہے۔سی پی جے کے مطابق ویت نام اب بھی چین کے بعد ایشیا ء کا دوسرا بدترین جیلر ہے جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں جبکہ پورے امریکہ میں صرف 3 صحافیوں کو جیل بھیجا گیا تھا۔دنیا بھر میں قید صحافیوں کی اکثریت کو ریاست مخالف الزامات کا سامنا ہے جبکہ جھوٹی خبر کے الزام میں قید صحافیوں کی تعداد 30 ہے جو گزشتہ برس 28 تھی۔صحافیوں کے خلاف الزامات کے استعمال میں سال 2012 کے بعد سے تیزی آئی۔

جب سی پی جے کے مطابق پوری دنیا میں صرف ایک صحافی کو الزام کا سامنا تھا اس میں بھی مصری صدر عبدالفتح سیسی سب سے زیادہ اس کا استعمال کرتی ہے۔گزشتہ برس روس اور سنگاپور سمیت جابرانہ ممالک میں جعلی خبروں کو جرم بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔رواں برس کے ا عداد و شمار کے مطابق 4 سالوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ترکی دنیا کا بدترین جیلر نہیں بنا تاہم قیدیوں میں تعداد میں کمی ترک میڈیا کے لیے صورتحال بہتر ہونے کی نشاندہی نہیں۔

سی جے پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جیلوں میں موجود 98 فیصد صحافی مقامی ہیں جو اپنے ملک کی صورتحال پر رپورٹنگ کررہے تھے4 میں 3 صحافی غیر ملکی ہیں جو سعودی عرب میں قید ہیں جبکہ ایک چین میں زیر حراست ہے۔رپورٹ کے مطابق جیل میں موجود صحافیوں کی تعداد کا 8 فیصد یا 20 صحافی خواتین ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 13 فیصد تھی۔سیاست صحافیوں کو جیل میں پہنچانے کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے بعد انسانی حقوق اور بدعنوانی کے الزامات ہیں زیر حراست صحافیوں کی نصف سے زائد تعداد آن لائن اشاعت کے لیے رپورٹنگ کررہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…