جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ماضی میں پٹرول ڈیزل کی قیمتوں پر احتجاج کرنے والوں نے پٹرول کے نام پر ہی عوام کی کھال اتار دی، فی لیٹر کتنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے؟ انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام سے حکومت کی جانب سے 206 ارب ٹیکس لینے کا افسوسناک انکشاف۔قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی مد میں 206 ارب 28 کروڑ روپے عوام کی جیبوں سے نکلوا لیے۔ وقفہ سوالات کے دور ان پٹرولیم ڈویژن نے بتایاکہ حکومت ڈیزل پر فی لیٹر 45 روپے 75 پیسے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے،

پٹرول پر 35 روپے، مٹی کے تیل پر 20 روپے اور لائٹ ڈیزل پر 14 روپے 98 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن نے تحریری جواب میں بتایاکہ گزشتہ ایک سال کے دوران تیل میں قیمتوں کو 17 بار تبدیل کیا گیا۔عمر ایوب نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6بار اضافہ جبکہ 11 بار کمی کی گئی۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے بتایاکہ یہ بات درست نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کبھی کمی اور کبھی اضافہ ہوتا ہے۔دوسری جانب امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ڈیزل پر 45اور پٹرول پر 35روپے ٹیکس لینے کے حکومتی اعتراف نے ثابت کردیاہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کو بھی عوامی مشکلات کے حل سے کوئی غرض نہیں، حکومت ایک سال میں پٹرول ٹیکسوں کی مد میں 206ارب وصول کرچکی ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 15روپے تک ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، بجلی کی قیمتوں میں 26پیسے فی یونٹ کے اضافے سے عوام پر 14ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا اسے فی الفور واپس لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے خواب دکھانے والوں نے عوام کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دینے والوں نے آج ملک و قوم کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ملک میں تحریک انصاف نہیں بلکہ آئی ایم ایف، ورلڈبینک کی معاشی پالیسیاں رائج ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…