جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

میگا کرپشن مقدمات،بدعنوان عناصر کا کڑا احتساب، قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی وصولی کیلئے چیئرمین نیب کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قومی انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کے ذریعے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے،بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرانے کیلئے بدعنوان عناصر، اشتہاری مجرموں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب آپریشن اینڈ پراسیکیوشن ڈویژن کی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب وائٹ کالر کرائمز کو ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو گذشتہ 25 ماہ کے دوران 54 ہزار 344 شکایات موصول ہوئی ہیں، نیب نے گذشتہ 25 ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 600 ریفرنس دائر کئے ہیں، نیب نے 73 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو شاندار کامیابی ہے، نیب واحد ادارہ ہے جس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 340 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1270 ریفرنس دائر کئے ہیں جن کی مالیت تقریباً 910 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرانے کیلئے بدعنوان عناصر، اشتہاری مجرموں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اس سے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کریں۔

انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کو بھی ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مکمل تیاری کے ساتھ مقدمات کی پیروی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیب واحد ادارہ ہے جس نے وائٹ کالر مقدمات کو مقررہ مدت میں نمٹانے کے علاوہ نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس سے انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹانے میں مدد ملی ہے۔ نیب نے بدعنوانی کو کینسر سمجھتے ہوئے

اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 2018ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں  2019ء میں دگنا شکایات، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز کو نمٹایا ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے 25 ماہ کے دوران نیب کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو محنت اور جدوجہد سے قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے تمام بیوروز کے ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکایات، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز قانون کے مطابق نمٹائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…