جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

میگا کرپشن مقدمات،بدعنوان عناصر کا کڑا احتساب، قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی وصولی کیلئے چیئرمین نیب کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قومی انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کے ذریعے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے،بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرانے کیلئے بدعنوان عناصر، اشتہاری مجرموں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب آپریشن اینڈ پراسیکیوشن ڈویژن کی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب وائٹ کالر کرائمز کو ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو گذشتہ 25 ماہ کے دوران 54 ہزار 344 شکایات موصول ہوئی ہیں، نیب نے گذشتہ 25 ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 600 ریفرنس دائر کئے ہیں، نیب نے 73 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو شاندار کامیابی ہے، نیب واحد ادارہ ہے جس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 340 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1270 ریفرنس دائر کئے ہیں جن کی مالیت تقریباً 910 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرانے کیلئے بدعنوان عناصر، اشتہاری مجرموں اور عدالتی مفروروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اس سے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کریں۔

انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کو بھی ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مکمل تیاری کے ساتھ مقدمات کی پیروی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیب واحد ادارہ ہے جس نے وائٹ کالر مقدمات کو مقررہ مدت میں نمٹانے کے علاوہ نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس سے انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹانے میں مدد ملی ہے۔ نیب نے بدعنوانی کو کینسر سمجھتے ہوئے

اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے ”احتساب سب کیلئے“ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 2018ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں  2019ء میں دگنا شکایات، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز کو نمٹایا ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے 25 ماہ کے دوران نیب کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو محنت اور جدوجہد سے قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے تمام بیوروز کے ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکایات، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز قانون کے مطابق نمٹائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…