جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اتناظلم یزید اور ابرہہ نےنہیں کیا، نقیب اللہ محسود کے والد محمدخان کے آخری الفاظ نقیب اللہ محسود کے والد آخری دن تک کیسے اپنے بیٹے کے انصاف کیلئے بیماری کے باوجود وہیل چیئر پر دھکے کھاتے رہے اور موت سے پہلے کیا کہا؟ جانئے

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اتناظلم یزید اور ابرہہ نےنہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کےوالد بیٹے کیلئے انصاف مانگتے مانگتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ محمد خان محسود کافی عرصے سے کینسر کی بیماری میں مبتلا تھے ۔ گزشتہ 7ماہ سے ان کا پنڈی کے ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا ۔

دوران علاج ہی وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ جعلی مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے والد انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے‎کھٹکھٹاتے‎دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ ان کا ایک ویڈیو بیان سوشل میڈیا جس میں انہوں بتایا کہ وہ خود نقیب اللہ محسود کیس کے مدعی تھے اور دو ہفتے قبل آخری مرتبہ وہیل چیئر پر وہ اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہوئے جہاں سے وہ ہسپتال چلے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنا ظلم ابرہہ نے نہیں کیا تھا جتنا راؤ انوار نے کیا ہے۔مجھے ڈاکٹروں نے زیادہ بات کرنے سے منع کیا ہے اور دور تک کا سفر نہیں کر سکتا ۔ چھ ماہ سے بیماری کی حالت میں ہوں اور صحت میں بہتری نہیں آ رہی ۔ اپنی وہیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صرف اس تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہوں ۔ محمد خان محسود نے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ میں عدالت کے چکر لگاتا رہا اور مجھے یہی بتایا جاتا رہا کہ وہ گرفتار ہو بھی گئے تو ان کی ضمانت ہو جائے گی ۔ اپنے آخری بیان میں انہوں نے رائو انوار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ میرے گواہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ سب کو جانتا ہے اور انہیں دھمکیاں دیتا ہے ۔ میرے دو گواہوں گرفتار جبکہ باقی محصور ہو کر رہ گئے ہیں وہ نماز اور جنازے کیلئے نہیں جا سکتے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…