جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

339 کلومیٹر طویل نئی موٹر وے کی منظوری دے دی گئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ایک طویل اور اہم اجلاس میں پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کی اُصولی منظوری دے دی گئی۔مجوزہ الائنمنٹ تقریباً 339 کلومیٹر طویل ہے، جو 15 انٹر چینجز اور 3ٹنلز پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے جنوبی اضلاع اور تحصیلوں کے آبادی والے تمام دیہات اور قصبوں سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو رسائی دی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جنوبی اضلاع کے عوامی نمائندوں کی مشاورت سے انٹر چینجز کے پلان کو حتمی شکل دی جائے۔ یہ موٹروے جنوبی اضلاع کیلئے موجودہ حکومت کا ایک بڑا منصوبہ ہے، جس سے جنوبی خطے کی ترقی کے راستے ہموار ہوں گے اور عوام کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی۔ پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس میں وزیر مملکت شہریار خان آفریدی، صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب خان، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، جنوبی اضلاع سے اراکین صوبائی اسمبلی، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات، مینجنگ ڈائریکٹر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کیلئے الائنمنٹ کی آپشنز، ڈیزائین پیرامیٹرز، مقاصد، انٹر چینجز، ٹنلز، مختلف اضلاع اور تحصیلوں کو دی جانے والی کوریج اور دیگر اہم پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں منصوبے کی الائنمنٹ کیلئے تجویز کی گئی پانچ مختلف آپشنز پر تفصیلی غور وخوض کرنے کے بعد آپشن دوم پر اتفاق رائے پایا گیا جس کی معمولی تبدیلی کے ساتھ اُصولی منظوری دی گئی۔ یہ الائنمنٹ پشاور میں چمکنی کے مقام سے شروع ہو کر درہ آدم خیل،کوہاٹ، ہنگو،  کرک، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان تک جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے تقریباً 250ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے اس منصوبے کو جلد شروع کرکے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنوں سرکلر روڈ سمیت دیگر جنوبی اضلاع میں جاری سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کو بھی مختلف انٹر چینجز کے ذریعے ڈی آئی خان موٹر وے سے منسلک کیا جائیگا، جس سے جنوبی اضلاع کے تمام شہروں اور دیہات سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئیگی اور اس کے ساتھ سیاحت و تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ موٹر وے جنوبی اضلاع کی تقدیر بدلنے کے لئے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہو گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…