اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بوٹوکس کا استعمال نابینا پن کا باعث بھی ہوسکتا ہے

datetime 15  جون‬‮  2015 |

اسلام آبا(نیوزڈیسک )بوٹوکس کے استعمال کو متعارف کروانے والی پروفیسر ڈاکٹر جین کیراتھرز نے خبردار کیا ہے کہ بوٹوکس کا استعمال نابینا پن کا باعث بھی ہوسکتا ہے اور دنیا میں کم از کم ایسے 100افراد موجود ہیں جو کہ بوٹوکس کے انجکشن کے سبب ایک آنکھ یا دونوں آنکھوں سے اندھے ہوگئے۔ ڈاکٹر جین کے مطابق اس اندھے پن کی وجہ اناڑی ڈاکٹروں سے کاسمیٹک ٹریٹمنٹ لینا ہے جس کی وجہ سے یہ انجکشن درست نس میں لگائے جانے کے بجائے ایسی نسوں میں لگا دیا جاتا ہے جن کا آنکھوں سے تعلق ہوتا ہے اور یوں بصارت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر جین کے مطابق ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ بوٹوکس کے انجکشنزہونٹوں کے اوپر اور آنکھوں کے گرد انتہائی باریک لکیروں کو چھپانے کیلئے لگائے جاتے ہیں۔ اس طریقے کار میں انتہائی باریک سوئی والی سرنج کی مدد سے مطلوبہ حصے میں کیمیکل داخل کیا جاتا ہے جو کہ جلد میں داخل ہونے کے سبب جلد کی لچک کے خاتمے کے سبب پیدا ہونے والے بے جان اور لٹکتے ٹکڑے کو بھر دیتا ہے تاہم اگر یہی کیمیکل خون کی شریان میں داخل ہوجائے تو ایسے میں آنکھوں کو خون سپلائی کرنے والی نسوں کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
پروفیسر جین نے 1987میں بوٹوکس کے جھریوں کے خاتمے کے لئے استعمال کو متعارف کروایا تھا۔ جلد کے حوالے سے مونٹریال میں ہونے والی کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ نابینا پن کے علاوہ ایسے کیسز بھی مشاہدے میں آئے ہیں جہاں غلط نس میں انجکشن گھونپ دینے کے سبب دماغ کو نقصان پہنچا اور فالج ہوگیا۔ ڈاکٹر جین کے مطابق بہت سے کیسز میں بوٹوکس کے طریقہ کار کو تو استعمال میں لایا گیا تھا تاہم اس مقصد کیلئے کیمیکل کی جگہ مریض کی اپنی چربی استعمال کی گئی تھی کیونکہ شریانوں میں چربی کے داخلے کے بعد اس کا حل ہوجانا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی قانون کے تحت کوئی بھی شخص بوٹوکس کے انجکشنز لگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام سی بیوٹیشیئنز جنہیں کسی قسم کی طبی تربیت حاصل نہیں ہوتی ہے، وہ بھی بوٹوکس کے انجکشنز لگا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر جین کے مطابق برطانیہ میں ایسا ایک کیس ان کے علم میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…