ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

فلسطینیوں کو حقوق سے محروم رکھ کر تنازع کو بڑھاوا دیا گیا،اردنی فرمانروا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عمان(این این آئی)اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل واحد قابل عمل اور حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔ اس کا متبادل غیر مساوی قوانین کی حامل ایک نسل پرست ریاست ہوسکتی ہے جس میں بسنے والی ایک قوم کو زیادہ حقوق اور دوسری اقوام کو محروم رکھا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اردنی فرمانروا نے ان خیالات کا اظہار فلسطینی عوام کے ساتھ

عالمی یکجہتی کے موقع پر اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے فلسطینی امور کے چیئرمین شیخ نیانغ کو لکھت گئے ایک مکتوب میں کیا۔خیال رہے کہ 29 نومبر کو ہرسال فلسطینیوں کے ساتھ عالمی سطح پر یوم یکجہتی منایا جاتا ہے۔شاہ عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ ، دیرپا اور جامع حل کے افق کی مسلسل عدم موجودگی مشرق وسطی میں جاری تنازع کو بڑھانے کا باعث بنی ہے۔یہ نہ صرف خطے کی سلامتی اور استحکام کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی اور استحکام میں رکاوٹ ہے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یکطرفہ اقدامات کا تسلسل، فلسطینیوں کے حقوق سے انکار ، فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضے، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، تنازعات اور مایوسی کو بڑھاوا دینے اور انتہا پسندی کی قوتوں کو طاقت ور بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔اپنے پیغام میں اردنی بادشاہ نے فلسطینی اسرائیل تنازعہ کو دو ریاستی فارمولے کے تحت حل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے 4 جون ، 1967 کی سرحدوں پرایک آزاد ، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے ، جس میں مشرقی بیت المقدس اس کا دارالحکومت کا درجہ دیا جائے۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو دو الگ الگ ریاستوں کیقیام پر زور دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…