جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پلان”سی“ کا آغاز، حکومت کو ایک اور جھٹکا،اپوزیشن جماعتوں نے ملکر بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)اپوزیشن جماعتوں کی ضلعی قیادت کی اے پی سی نے رہبر کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں نما زجمعہ کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کرنے کااعلا ن کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر رہبر کمیٹی نے محسوس کیا تو پلان سی کی جانب بھی جایا جا سکتا ہے،آزادی مارچ کی منزل اس حکومت کا خاتمہ ہے،مارچ کے تمام اہداف حاصل ہوں گے،اپوزیشن کی تحریک 22کروڑ عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔

ان خیالات کااظہار مسلم لیگ ن کے رہنماڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی رہائش گاہ پرمنعقدہ ضلعی اے پی سی کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کیا۔مسلم لیگ ن کے رہنماڈاکٹر طارق فضل چوہدری، جے  یو آئی کے ضلعی امیر مولاناعبدالمجید ہزاوری، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی رہنما حاجی عبد القیوم اچکزئی،جمعیت اہل حدیث کے رہنماحافظ محمد مقصوداوردیگر نے کہا کہ پلان بی کو ختم کیا گیااب جمعہ کو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے،ا س ضمن میں  جمعہ کو متحدہ اپوزیشن کا پریس کلب کے سامنے تین بجے احتجاج ہوگا،اپوزیشن کی تحریک 22کروڑ عوام کے حقوق کی جنگ ہے،،جولائی 2018 سے متحدہ اپوزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا،آزادی مارچ کی شکل میں متحدہ اپوزیشن نے منظم احتجاج کیا،آزادی مارچ کا تمام کریڈٹ مولانا فضل الرحمان کو جاتا ہے،آزادی مارچ اور عمران خان کے دھرنے میں زمین آسمان کا فرق تھا،آزادی مارچ کے دوران شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے،آزادی مارچ اپوزیشن کی تحریک کا نام ہے اور تحریکیں ختم نہیں ہوتیں،تمام اپوزیشن جماعتیں اپنی پالیسی کے مطابق آئندہ بھی آزادی مارچ میں شرکت کریں گی،انھوں نے کہا کہ آزادی مارچ کی منزل اس حکومت کا خاتمہ ہے مارچ کے تمام اہداف حاصل ہوں گے80فیصد معیشت حکومت پر عوام کے اعتماد کی وجہ سے چلتی ہے،آج حکمران عوامی اعتماد کھو چکے ہیں،،پلان بی دو سو فیصد کامیاب رہاحکومت کی جڑیں کاٹ دیں اور ان کی بنیادیں ہل چکی ہیں،متحدہ اپوزیشن رہبر کمیٹی میں احتجاج سے متعلق فیصلے کر رہی یے،پلان بی میں باقی اپوزیشن جماعتیں ساتھ نہیں تھیں لیکن متحدہ اپوزیشن کی ہمیں حمایت حاصل تھی تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کریں گے،اپنے اہداف حاصل ہونے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گااگر رہبر کمیٹی نے محسوس کیا تو پلان سی کی جانب بھی جایا جا سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…