اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

گندم کی قیمت میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ 2 لاکھ ٹن گندم کہاں غائب ہو گئی؟آٹے کی قیمتیں کنٹرول رکھنے کیلئے بڑا مطالبہ کردیا گیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کی کمی کا امکان ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلہ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو امن و امان کا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا ہو گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا

کہ سال رواں کی ابتداء میں ملک میں 27.9 ملین ٹن گندم موجود تھی جو ملکی ضروریات کے لئے کافی تھی جو اب 25.8 ملین ٹن ہے مگر اسکے باوجود بحران جنم لے رہا ہے اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کو حل کرنے کے لئے گندم کی درآمد کی فوری اجازت دی جائے اور اسے یقینی بنانے کے لئے گندم کی درآمد پر عائد60 فیصد ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ گندم کے بحران کے دیرپا حل کے لئے اس شعبہ میں کرپشن، چوری اورا سمگلنگ کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم موجود ہے مگر اس میں سے2 لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کی خبروں سے اسکی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا نوٹس لیا جائے کیونکہ اس اہم معاملہ کو نظر انداز کرنا بڑی سیاسی غلطی ہو گی جس سے ملکی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ گندم کے بحران میں منافع خور بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں جن کی پھیلائی ہوئی افواہوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔یہ عناصر افواہوں کے ذریعے اپنا منافع بڑھا رہے ہیں جسکی اجازت نہیں ہونی چائیے۔یہ منافع خور پہلے کاشتکاروں کو بلیک میل کر کے ان سے کوڑیوں کے مول گندم خریدتے ہیں اور بعد ازاں اسے مہنگے داموں بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور اس طرح سے کسانوں اور عوام دونوں کا استحصال کر رہے ہیں مگر انھیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایف بی آر ان عناصر کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لئے اقدامات کرے تاکہ انھیں ملکی مستقبل سے کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار خطے کے دیگر ممالک سے بہت کم ہے جسے بڑھانے کے لئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے پانی کی کمی، بہتر بیج، مناسب قیمت پر کھاد اور زرعی ادویات کی فراہمی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو اپنانا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…