بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتیہ جنتا پارٹی نے مقبوضہ کشمیر میں سڑکوں اور سرکاری محکموں کے نام تبدیل کرنا شروع کردیئے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)بھارتیہ جنتا پارٹی نے حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سڑکوں اور سرکاری محکموں کے نام یہ کہہ کرتبدیل کرنا شروع کردیے ہیں کہ جموںوکشمیر عبداللہ اور مفتیوں کا نہیں ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیر کے محکمہ پانی کو

اب جل شکتی محکمہ کا نام دیا گیا ہے۔ چنانی ناشری ٹنل کانیا نام ہندوتوا نظریے کے حامل اور بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھر جی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم کوسردار ولبھ بھائی پٹیل سٹیڈیم کے نام سے پکارا جائے گا۔ بھارتی حکومت کی طرف سے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے اور اسکو دو حصوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد اس طرح کے اقدامات سے یہ واضح ہوگیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالآخر نام تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔قابض حکام مقبوضہ علاقے میں ان تمام اہم تاریخی مقامات اور عمارات کے نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں جونیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ جن کو شیر کشمیر کہا جاتاتھا، کے نام سے منسوب ہیں اور ان میں دو ہسپتال ، کرکٹ سٹیڈیم ، ایک پارک اور کنونشن سینٹر شامل ہیں ۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے مورخ عاشق حسین نے کہاکہ اس سیاسی مہم کا مقصدلوگوں کو تقسیم کرنا اور بھارت میں اکثریتی ہندو آبادی کو جیت کا احساس دلانا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس سے کشمیریوں کے خدشات سچ ثابت ہورہے ہیں ۔ کانگریس نے بھی بھارتی حکومت پر تنقید کی ہے ۔ پارٹی کے مقبوضہ کشمیر کے صدر جی اے میر نے کہاکہ بھارتی حکومت مقامات کے نام تبدیل کرکے جموںوکشمیر کی تاریخ تبدیل نہیں کرسکتی ۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…