بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا تنازعہ کشمیر حل کرانے میں مدد کرے یا بھاری قیمت ادا کرنے کیلئے تیار رہے‘ جوہری جنگ سے برطانیہ کا کتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے؟سابق برطانوی سفارتکار نے خبردار کر دیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لندن(آن لائن)اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر نے تنازعہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے حقیقی خطرے سے خبردارکرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیاہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل میں مدد کرے یامستقبل میں جوہری جنگ کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنے کے لیے تیا ررہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق سفارتکار Sir Mark Lyall Grant نے ایک مضمون میں کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ سے برطانیہ کو 20ارب پائونڈ کا نقصانا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جنگ سے برطانیہ پر بھی اثرات ہونگے اور اس بحران کو حل کرانے کے لیے ہماری خصوصی ذمہ داری ہے۔تنازعہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس سے پورے برصغیر کی سلامتی خطرے سے دوچارہے۔امریکی جریدے فوربز میں شائع ہونے والے مضمون میں سرمارک لیال نے خبردارکیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی فوجی تصادم کا رخ اختیارکرسکتی ہے جس سے بر طانیہ کو 20ارب پائونڈ کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھات کے حالیہ اقدامات سے یقیناً مسلم اکثریتی علاقے جموںو کشمیر میں مایوسی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ تنازعہ کشمیر کوحل کرانے کے لیے برطانیہ کی خاص ذمہ داری ہے کیوں کہ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے وقت برطانیہ کشمیر کے حوالے سے اختلافات کو دور کرانے میں ناکام ہوگیا تھاجو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…